ایرانی و امریکی وفود میں براہ راست مذاکرات اوروینس ،قالیباف مصافحہ ہوگا؟
صورتحال کی پیچیدہ نوعیت کے پیش نظر یہ بات چیت کئی روز تک جاری رہ سکتی ہے۔ ذرائع
اسلام آبادمیں 47برس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر سفارتی رابطہ ہورہاہے۔اگر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد اور سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد کے درمیان مذاکرات آگے بڑھے تو یہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد فریقین کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر براہِ راست مذاکرات ہوں گے۔
2015 میں جوہری معاہدے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے دوران اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں ہوئی تھیں۔لیکن 1979 کے بعد سے اب تک ایرانی حکام اور کسی امریکی نائب صدر یا صدر کے درمیان کوئی سرکاری ملاقات نہیں ہوئی۔
فریقین کے درمیان رابطے کی اعلی ترین سطح ستمبر 2013 میں دیکھی گئی تھی جب اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما نے ایرانی صدر حسن روحانی کو فون کیا تھا تاکہ ایرانی ایٹمی پروگرام پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، جس نے بعد میں جوہری مذاکرات کی راہ ہموار کی اور 2015 کا جوہری معاہدہ طے پایا ، تاہم موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران 2018 میں اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔اس وقت سے دونوںملکوں کے حکام کے درمیان براہِ راست رابطے نہیں ہوئے اور رابطہ ہمیشہ سوئٹزرلینڈ یا سلطنت عما ن کے توسط سے بالواسطہ رہا۔
گذشتہ سال جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان عمان کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات کے کئی دور ہوئے لیکن وہ صدارتی سطح تک نہ پہنچ سکے۔
تمام نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں اورسفارتی حلقوں میں یہ سوال زیرگردش ہے کہ کیا جے ڈی وینس محمد باقر قالیباف سے مصافحہ کریں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ امریکہ کے 47ویں صدر ہیں۔47برس بعد ہی ایران ،امریکہ اعلیٰ ترین رابطہ ہورہاہے ۔
پاکستانی حکومتی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ دونوں وفد مستقل جنگ بندی کے مقصد کے حصول کے لیے براہِ راست مذاکرات کریں گے۔ایک ذریعہ نے بتایا کہ دونوں فریق آمنے سامنے بیٹھیں گے اور پاکستانی حکام سے الگ الگ بات چیت بھی کریں گے۔ذریعے نے مزید کہا کہ صورتحال کی پیچیدہ نوعیت کے پیش نظر یہ بات چیت کئی روز تک جاری رہ سکتی ہے۔تاہم، دوسرے ذریعے نے اشارہ دیا کہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے براہِ راست مذاکرات دو یا تین دن سے زیادہ نہیں لیں گے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے لیے کوئی مخصوص وقت مقرر نہیں، جس میں براہِ راست اور بالواسطہ رابطوں کا امتزاج شامل ہوگا۔
اسلام آباد کے لیے روانگی سے قبل، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے منتظر ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ تعمیری ہوں گے۔