بریکنگ کسی ڈیل کے بغیر امریکہ واپس جا رہے ہیں۔ جے ڈی وینس

پاکستان نے مذاکرات کرانے میں اچھا کام کیا تاکہ معاہدہ ہو سکے۔امریکی نائب صدر

               
April 12, 2026 · قومی

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔ ہم امریکہ واپس جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے مذاکرات کرانے میں اچھا کام کیا تاکہ معاہدہ ہو سکے۔

’ہم 24 گھنٹوں سے اسلام آباد میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا۔ ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح کی ہے۔ انھوں نے ہماری شرائط ماننے سے انکار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ سے زیادہ ایران کیلئے بری خبرہوگی کہ معاہدہ نہیں ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک سوال کے جواب میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ہم اس نکتے پر نہیں پہنچ سکے کہ جہاں ایرانی ہماری شرائط قبول کرتے۔

’میرے خیال میں ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا، صدر نے ہمیں کہا تھا کہ آپ کو نیک نیت کے ساتھ (مذاکرات میں) جانا ہے اور معاہدے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرنی ہیں ہم نے وہ کیا لیکن افسوس ہے کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔

 

جے ڈی وینس سے سوال کیا گیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ان کا صدر ٹرمپ سے کتنی بار رابطہ ہوا اور انھوں نے آپ سے کیا کہا۔

امریکی نائب صدر نے کہا، ’ہم مسلسل صدر سے رابطے میں تھے، مجھے نہیں معلوم کہ گذشتہ 21 گھنٹوں میں کتنی بار بات ہوئی ہوگی۔۔۔۔ شاید ایک درجن مرتبہ۔‘

’ہم ایڈمرل کوپر، مارکو، اور پیٹ اور پوری نیشنل سکیورٹی ٹیم سے رابطے میں تھے۔ ہم مسلسل رابطے میں تھے کیونکہ ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہاں ایک انتہائی سادہ سی تجویز ساتھ جا رہے ہیں کہ افہام و تفہیم کا ایک طریقہ کار وضع کیا جائے، یہ ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے، دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

الجزیرہ کے مطابق امریکی نائب صدر سے جب پوچھا گیا کہ کس معاملے پر اختلافات ہوئے تو انہوں نے یہ کہا کہ وہ تفصیلات نہیں بتا سکتے تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران سے اس بات کی پکی یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں امریکی نائب صدر نے کہا: ’ہم نے بہت واضح طور پر بتا دیا تھا کہ ہماری ریڈ لائنز کیا ہیں، کن باتوں پر ہم مفاہمت کر سکتے ہیں اور کن پر نہیں۔‘

جے ڈی وینس کے مطابق: ’اور انھوں نے (ایران نے) فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہماری شرائط تسلیم نہیں کریں گے۔‘

اس موقع پر صحافیوں نے امریکی نائب صدر سے سوال کیا کہ ’واضح طور پر بتائیے کہ کون سی شرائط مسترد کی گئی ہیں؟‘

اس سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ 21 گھنٹے تک جو مذاکرات بند دروازوں کے پیچھے ہوئے، ان کی تمام تفصیلات تو وہ نہیں بتائیں گے، تاہم ’سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم ان سے (ایران سے) یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار آلات بھی حاصل نہیں کریں گے۔

’امریکی صدر کا یہی بنیادی مقصد ہے اور ہم نے مذاکرات کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔‘

امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کے پاس موجود یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت پہلے ہی تباہ کی جا چکی ہے، ’لیکن کیا ہم ایران میں یہ آمادگی دیکھ رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار کبھی بھی نہیں بنائیں گے۔ یہ آمادگی ابھی تک ہمیں نظر نہیں آئی۔