امریکہ ایران مذاکرات تعطل کا شکار۔ پاکستان سفارتی رابطے برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم

اس تناظر میں پاکستان چاہتا ہے کہ سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رہے۔

               
April 12, 2026 · قومی

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اختتام کئی حوالوں سے غیر متوقع تھا، کیونکہ دونوں ممالک کو آمنے سامنے بٹھانے کے لیے کافی کوششیں، سفارتی کاوشیں اور قائل کرنے کا عمل درکار تھا۔

الجزیرہ کے مطابق تاہم ایک سینئر سفارتکار نے بتایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ رابطوں کے دروازے بند ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باعث یہ ایک موقع بھی ہے کہ خطے کے متاثرہ ممالک کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لا کر اختلافات حل کیے جائیں۔

اس تناظر میں پاکستان چاہتا ہے کہ سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رہے۔

دوسری جانب، مذاکرات کے آغاز پر وزیر اعظم شہبازشریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے پیغام میں واضح کیا تھا کہ لبنان سمیت دیگر فریقین، جن میں حوثی اور ایران کے حامی عراقی ملیشیائیں شامل ہیں، جنگ بندی پر عمل کریں گے۔

تاہم پاکستانی سفارتکاروں کے مطابق نیتن یاہو نے بیروت پر اندھا دھند بمباری کر کے ان نازک مذاکرات کو کسی حد تک سبوتاژ کیا، جس پر عالمی سطح پر تنقید اور مذمت سامنے آئی۔