اسلام آباد مذاکرات ایونٹ نہیں ، مسلسل عمل کا نام ہے، ایرانی سفیر
وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈمارشل کی کوششوں کو سراہتےہیں ، رضاامیری مقدم
اسلام آباد: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات میں ایک سفارتی عمل کی بنیاد رکھی گئی ہے، یہ مذاکرات ایک ایونٹ نہیں، ایک مسلسل عمل کانام ہے۔
ایک پیغام میں ایرانی سفیر رضاامیری مقدم نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈمارشل کی کوششوں کو سراہتےہیں، نیک نیتی اور اعتماد کے ساتھ پائیدارحکمت عملی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی میزبانی اورکردارقابل تعریف ہے۔
ایرانی سفیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں ان مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری پر پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خیر سگالی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ان مذاکرات کے لیے بہترین ‘گڈ آفس’ کا کردار ادا کیا۔
رضا امیری مقدم نے مذاکرات کے انعقاد کے لیے حکومت پاکستان، پاک فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی انتھک محنت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ایک پروقار اور پرامن ماحول میں منعقد ہوئے جہاں دونوں اطراف کے وفود کو یکساں لاجسٹک مواقع فراہم کیے گئے۔
ایرانی وفد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سفیر کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح کے ایرانی مذاکراتی ٹیم نے مکمل خود اعتمادی، وقار اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ ایرانی عوام کے خدشات کو سامنے رکھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایرانی قوم کے قومی مفادات اور جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات نے وہ بنیاد فراہم کر دی ہے جس پر اعتماد سازی اور مضبوط عزم کے ذریعے ایک پائیدار سفارتی ڈھانچہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ اگر تمام فریقین اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو یہ عمل خطے میں استحکام کے لیے کلیدی ثابت ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے تاریخ ساز مذاکرات کا پہلا راؤنڈ مکمل ہوگیا ہے۔ فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی نائب صدر کا بات چیت کو بڑی پیشرفت قرار دینا امید کی واضح بڑی کرن ہے۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ ہم نے 21 گھنٹوں تک بات چیت کی اچھی خبر یہ ہے کہ ہم نے کئی پہلوؤں پر گفتگو کی،فی الحال ہم کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ ہماری ریڈ لائنز کیا ہیں وہ ہم نے واضح کردی ہے،ان میں سے کون سے معاہدے میں شامل ہونگے کونسے نہیں ،یہ سب ہرممکن حدتک واضح ہوگیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کئی پیچیدہ نکات پر مفاہمت کی تصدیق کی ہے۔ کہا اتنے بڑے تنازع کا ایک ہی نشست میں حل ہوجانا ممکن نہ تھا۔ مذاکرات کے اہم موضوعات کے مختلف پہلوؤں پربات چیت کی گئی،اکثر نکات پراتفاق ہوگیا،دو سےتین نکات پراختلاف برقرار ہے،پاکستان اور دیگر دوست ملکوں کے ساتھ مشاورت جاری رہی گے۔