پاکستان کا ذخائر برقرار رکھنے کے لیے مختلف مالی آپشنز پر غور
ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 16.4 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی سمجھے جا رہے ہیں
اسلام آباد — پاکستان نے بیرونی مالیاتی دباؤ اور ذخائر کے انتظام کے تناظر میں مختلف مالی ذرائع پر غور شروع کر دیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کے مطالبے کے بعد پاکستان زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں دوطرفہ قرض دہندگان اور تجارتی مالیاتی ذرائع شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت ایسے وقت میں مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 16.4 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی سمجھے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس سال دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں یورو بانڈز، سکوک اور دیگر مالیاتی آلات شامل ہوں گے۔
حکام کے مطابق حکومت عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور معاشی استحکام کے لیے مختلف فنانسنگ آپشنز پر کام جاری ہے، تاہم فی الحال کسی نئے بیل آؤٹ پروگرام کی درخواست زیر غور نہیں ہے۔