پاکستان میں ایرانی ریال کی بڑھتی طلب اور خرید اری،مالی نقصان کے خدشات کاانتباہ

کرنسی مارکیٹ کے ماہرین اس صورتحال کو عارضی اور خطرناک قرار دے رہے ہیں

               
April 14, 2026 · امت خاص

تصویر: ایمازون

 

پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں حالیہ دنوں کے دوران ایرانی ریال کی طلب میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قیمت پاکستانی روپے کے مقابلے میں 3 سے 4 گنا تک بڑھ گئی ہے۔ کرنسی ایکسچینج مارکیٹ ذرائع کے مطابق جنگ سے قبل 10 ملین (ایک کروڑ) ایرانی ریال تقریباً ڈھائی ہزار روپے میں دستیاب تھے، تاہم اب یہی رقم 8 ہزار سے 10 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔

 

مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ایرانی ریال کی عالمی سطح پر قدر میں کسی بنیادی بہتری کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ اس کی اصل وجہ مقامی سطح پر طلب میں اچانک اضافہ ہے۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں ایرانی ریال اب بھی ایک کمزور کرنسی ہے، جہاں ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4700 سے 5000 ایرانی ریال کے برابر ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی غیر رسمی یا اوپن مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب نے اس کا مقامی ریٹ مصنوعی طور پر اوپر کر دیا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق اس رجحان کے پیچھے دو بڑی وجوہات کارفرما ہیں۔ پہلی، یہ توقع کہ مستقبل میں ایرانی ریال مزید مہنگا ہو سکتا ہے، اور دوسری، سرحدی علاقوں میں تجارت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں۔ اس کے علاوہ کچھ افراد سستے داموں بڑی مقدار میں ریال خرید کر مستقبل میں فائدہ حاصل کرنے کی امید بھی کر رہے ہیں، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ بات چیت اور پابندیوں میں نرمی کی توقعات کے تناظر میں۔

 

تاہم کرنسی مارکیٹ کے ماہرین اس صورتحال کو عارضی اور خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی اس نوعیت کے اچانک اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آئے ہیں، لیکن یہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہتے۔ جنگی صورتحال اور سرحدی طلب میں اضافے نے وقتی طور پر قیمت کو اوپر دھکیلا ہے، جو حالات معمول پر آنے کے بعد دوبارہ نیچے آ سکتی ہے۔

 

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مارکیٹ کی موجودہ توقعات پوری نہ ہوئیں تو بڑی مقدار میں ریال خریدنے والے افراد کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ایک عام بات ہے، اور موجودہ اضافہ بھی مستقل نہیں ہے۔ اس لیے عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر ضروری طور پر سرمایہ کاری سے گریز کریں اور صرف حقیقی ضرورت، جیسے سفر یا قانونی تجارت، کے لیے ہی ایرانی ریال خریدیں تاکہ ممکنہ مالی نقصان سے بچا جا سکے۔