تاجر بجٹ سے پہلے اپنی رقوم باہر سے واپس لے آئیں ، محسن نقوی

 پاکستان سے 100 ارب ڈالر باہر گئے، تاجر اگر آج فیصلہ کرلیں تو بجٹ سے پہلے 10 ارب ڈالر آجائیں گے ، مشاورتی اجلاس سے خطاب

               
April 14, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ہیڈ آفس فیڈریشن ہاؤس کراچی کا دورہ کیا، جہاں ان کی زیر صدارت ملک کی معاشی صورتحال اور امن و امان پر تفصیلی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

کراچی میں فیڈریشن ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے تاجروں سے درخواست کی کہ وہ بجٹ سے پہلے اپنی رقوم لے کر آئیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پچھلے تین چار سال میں پاکستان سے 100 ارب ڈالر باہر گئے، تاجر اگر آج فیصلہ کرلیں تو بجٹ سے پہلے 10 ارب ڈالر آجائیں گے۔ تاجروں سے درخواست ہے کہ 30 فیصد پیسہ ہی واپس لے آئیں۔

اس موقع پر صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ، یو بی جی کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر، نائب صدور عبدالمہیمن خان، ذکی اعجاز اور امان پراچہ سمیت تاجر و صنعتکار برادری کی بڑی تعداد موجود تھی، جبکہ سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر گوہر اعجاز بطور گیسٹ آف آنر شریک ہوئے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان جو منافع دیتا ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں ملے گا، آپ کو کاروباری ماحول ملے گا، تاجروں کے ویزوں سے متعلق جلد تجاویز وزیراعظم کو پیش کریں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کو سنوارنا ہے، مواقع سے فائدہ اٹھانا ہے، ایف آئی اے کے معاملات کو بزنس فرینڈلی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کوئی بات کرتے ہیں یا زبان دیتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک یا دو فیصد لوگوں کی وجہ سے پوری بزنس کمیونٹی کو سزا نہیں دے سکتے۔

ن کا کہنا تھا کہ پچھلے تین چار سالوں میں 100 ارب پاکستان سے باہر گئے ہیں، پیسہ باہر کیسے گیا؟ اس پر بات نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پتہ نہیں لگایا جاسکتا تو کراچی میں ایک دو بندوں کو اٹھانے کی دیر ہے سارا کچھ پتہ چل جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں کہتے کہ دبئی یا باہر پڑے ہوئے سارے واپس لے آئیں، روشن اکاؤنٹ کے تحت باہر پڑا ہوا 20 یا 30 فیصد پیسہ واپس لے آئیں۔ اگر آپ 20 یا 30 فیصد پیسہ پاکستان واپس لائیں گے تو وہ 10 ارب ڈالرز سے زیادہ ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ منی چینجز صرف اس لیے رکھے ہیں کہ اپنے پیسوں کا بندوبست کرسکیں، کوئی سیاح آکر منی چینجر سے پیسے چینج نہیں کرواتا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں بڑے گروپس کی ٹرانزیکشنز پکڑی ہیں، جن سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ہم نے وزیر خزانہ سے بھی میٹنگ کی ہے کہ آپ ان سے پوچھیں کہ یہ منی چینجز کیا کر رہے ہیں؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت تاجر برادری کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی اور جو لوگ اپنا سرمایہ ملک میں لانا چاہتے ہیں انہیں خصوصی سہولتیں دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے لیے اسپیشل پاسپورٹ کے اجرا پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور منشیات کے خاتمے کے لیے حکومت پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کی ریٹنگ 99 سے 50 پر لے آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کا قیام معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں تاجر برادری کی تجاویز کو بھی اہمیت دی جائے گی۔

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صنعتکاروں نے وزیر داخلہ کو درپیش مسائل اور تحفظات سے آگاہ کیا ہے اور برآمدات میں اضافے اور صنعتی ترقی کے لیے حکومتی سطح پر مؤثر مشاورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کی جانب سے کاروباری طبقے کو مکمل تعاون اور سازگار ماحول کی یقین دہانی کو خوش آئند قرار دیا۔

اس موقع پر ایس ایم تنویر نے کہا کہ ٹیکسوں کی بھرمار نے صنعت کو متاثر کیا ہے جبکہ ایف بی آر کا رویہ بھی کاروبار دوست نہیں۔ عبدالمہیمن خان نے کہا کہ وزیر داخلہ کی آمد سے کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہوگا اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔

ذکی اعجاز نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا دارومدار صنعت و تجارت کے فروغ سے وابستہ ہے۔تقریب کے اختتام پر ایف پی سی سی آئی کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔