لوڈشیڈنگ عارضی ہے، گیس ملتے ہی ختم کر دیں گے ، وفاقی وزیر توانائی

گزشتہ سال کے مقابلے میں پن بجلی کی پیداوار 1530 میگاواٹ کم ہوئی، شام کے اوقات میں بندش پر معذرت خواہ ہیں ، اویس لغاری

               
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد (افضل شاہ یوسفزئی) وفاقی وزیر اویس لغاری پریس کانفرنس کرتے ہوئےکہا گزشتہ سال ڈیموں سے پانی کا اخراج رواں سال کے مقابلے میں زیادہ تھا، جس کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل کے پہلے 15 دنوں کے دوران بجلی کی کم سے کم طلب 10 ہزار میگاواٹ جبکہ زیادہ سے زیادہ طلب 20 ہزار میگاواٹ تک رہی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ شام کے پیک آورز میں بجلی بندش پر عوام سے معذرت خواہ ہیں، تاہم یہ صورتحال عارضی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیس کی عدم دستیابی اور پن بجلی کی کمی کے باعث لوڈشیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے، جیسے ہی گیس کی فراہمی بہتر ہوگی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔

اویس لغاری نے کہا کہ اگر بجلی کی طلب ساڑھے سولہ ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرے تو گیس سے چلنے والے پلانٹس کی ضرورت پیش آتی ہے، تاہم حالیہ دنوں میں گیس کی کمی کے باعث اس خلا کو پورا کرنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سے دو روز کے دوران صنعتوں کے لیے بھی لوڈشیڈنگ کی گئی اور ملک بھر میں یکساں لوڈشیڈنگ کی گئی
انہوں نے کہا کہ کراچی الیکٹرک اور حیسکو کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی جبکہ کراچی کو قومی گرڈ سے 2100 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے اور وہاں صرف اکنامک بنیادوں پر لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ن لیگ کی حکومت نے ماضی میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا تھا، تاہم حالیہ عالمی کشیدہ صورتحال کے باعث توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگی بجلی کی طرف نہیں جانا چاہتی، ورنہ بجلی کی فی یونٹ قیمت 100 روپے تک جا سکتی ہے۔

اویس لغاری نے بتایا کہ گیس کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا فائدہ آنے والے مہینوں میں ہوگا، جبکہ ایل این جی درآمد کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں اضافے سے مزید 500 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹس کو رات 8 بجے بند کرنے سے 1000 سے 1100 میگاواٹ بجلی کی بچت ہو رہی ہے، جبکہ بجلی چوری والے فیڈرز کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے بھی موجودہ صورتحال پر ملاقات ہوئی ہے اور حکومت عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔