ٹرمپ کے لبنان میں جنگ بندی اعلان کے بعد اسرائیل میں غصہ اور شرمندگی

وزرا اس بات پر سیخ پا ہیں کہ انہیں ووٹنگ کا موقع دیے بغیر ہی فیصلے سے آگاہ کیا گیا، جسے وہ ملکی خود مختاری پر ضرب قرار دے رہے ہیں۔

               
April 16, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

فائل فوٹو

یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے اچانک اعلان نے اسرائیلی سیاسی و عسکری قیادت کو شدید حیرت اور تذبذب میں ڈال دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس اعلان نے تل ابیب کے ایوانوں میں غصے اور “سفارتی شرمندگی” کی کیفیت پیدا کر دی ہے کیونکہ یہ فیصلہ اسرائیلی کابینہ کی منظوری اور ووٹنگ سے پہلے ہی منظرِ عام پر آ گیا۔

اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی سیکیورٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس محض چند منٹ کے نوٹس پر طلب کیا، لیکن اس سے قبل ہی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کر دیا۔

اسرائیلی اخبار ‘یدیعوت احرونوت’ نے انکشاف کیا ہے کہ وزرا اس بات پر سیخ پا ہیں کہ انہیں ووٹنگ کا موقع دیے بغیر ہی فیصلے سے آگاہ کیا گیا، جسے وہ ملکی خود مختاری پر ضرب قرار دے رہے ہیں۔

‘ہاریٹز’ اخبار کے مطابق، اگرچہ اسرائیلی فوج (IDF) آپریشنل طور پر جنگ بندی کے لیے تیار تھی، لیکن امریکی صدر کی جانب سے وقت سے پہلے اعلان نے فوجی کمانڈروں کو بھی حیران کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ‘ٹرتھ سوشل’ پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے کرایا ہے۔ انہوں نے اسے اپنی “دسویں بڑی جنگ” قرار دیا جسے وہ حل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ یہ دونوں لیڈر اپنے ممالک کے درمیان امن کے حصول کے لیے آج شام 5 بجے (امریکی وقت) سے 10 روزہ جنگ بندی پر رضامند ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ اور دیگر سخت گیر رہنماؤں نے اس معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اویگڈور لیبرمین نے اسے شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے ساتھ “غداری” قرار دیا ہے، جبکہ حکومتی وزراء کا ماننا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل پر اپنی شرائط تھوپی ہیں۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں زمین پر موجود ہیں اور لبنانی اہداف پر شدید حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکومت اور عوام کا ایک بڑا طبقہ اس مرحلے پر جنگ بندی کے حق میں نہیں تھا، کیونکہ وہ حزب اللہ کو مزید کمزور کرنا چاہتے تھے۔