22اپریل پرپوری دنیاکی نظریں۔صرف 48 گھنٹے پہلےصورت حال کیسے بگڑی؟
جنگ بندی ختم ہونے کے لیے کائونٹ ڈائون شروع ۔ امریکی میرینز کی کارروائی نے نازک توازن ہلادیا
فائل فوٹو
عارضی جنگ بندی کے اختتام میں اب گھنٹوں کا معاملہ رہ گیا ہے، اور عالمی سفارتی حلقوں میں بے چینی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ خلیجِ عمان میں ایرانی کارگو جہاز ’’توسکا‘‘پر امریکی میرینز کی اچانک کارروائی نے نہ صرف اس نازک توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ یہ سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا بدھ 22 اپریل تک مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہو پائے گا یا نہیںاور صرف 48 گھنٹوں میں حالات اس نہج تک کیسے پہنچ گئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی میرینز ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جہاز پر اترتے ہیں۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امریکی جنگی جہاز یوایس ایس سپرانس نے توسکا کے انجن کو غیر فعال کر دیا۔ امریکی مؤقف کے مطابق جہاز نے چھ گھنٹے تک دی گئی وارننگز کو نظر انداز کیا، جس کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔
امریکی بحری بیڑے کے حملہ آور جہازیوایس ایس ٹریپولی سے روانہ ہونے والے میرینز نے رسیوں کے ذریعے اترکر جہاز پر قبضہ کیا، جو ایک واضح فوجی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی نیول بلاک ایڈ کے نفاذ کے تحت کی گئی، جس کے دوران اب تک 25 کمرشل جہازوں کو روکا جا چکا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اس کارروائی کو مسلح قزاقی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی فوجی ترجمان نے خبردار کیا کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ جہاز چین سے آ رہا تھا اور اسے روکنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے عالمی توانائی منڈی کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی تیل کی برآمدات پر دباؤ جاری رہا تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا ہوں گے۔
اسلام آباد میں متوقع مذاکراتی دور سے قبل یہ واقعہ ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ امین سائیکل کے مطابق ایسی کارروائیاں کشیدگی کو بڑھا کر سفارتی عمل کو سبوتاژ کر سکتی ہیں۔ ان کے بقول دونوں فریق شدید دباؤ میں ہیں، اور آبنائے ہرمز اب ایک نئی اسٹریٹیجک رکاوٹ بن چکی ہے۔
قطری تجزیہ کار راشد ال موحنادی کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں۔ جنگ یا مذاکرات اور ایران بظاہر مذاکرات کا خواہاں ہے، مگر اپنی شرائط پر۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر سخت بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ایران نے “منصفانہ ڈیل” قبول نہ کی تو امریکہ اس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کا جملہ “NO MORE MR. NICE GUY” اس بدلتے ہوئے امریکی رویے کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سفارتکاری کے ساتھ ساتھ کھلی دھمکی بھی دی جا رہی ہے۔
ادھرٹائمزآف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی ختم نہیں ہوئی اور کسی بھی وقت نئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ خلیجی ممالک خاص طور پر پریشان ہیں کہ ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں سے پیدا ہونے والے خطرات کو کیسے قابو میں رکھا جائے۔
صرف دو دن پہلے تک امید کی جا رہی تھی کہ جنگ بندی مذاکرات کو آگے بڑھانے کا موقع دے گی، مگر آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے واقعات، امریکی نیول بلاک ایڈ، اور اب توسکا پر کارروائی نے اس امید کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات سے پسپائی کے اشارے اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا رہی ہیں۔
فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں گے یا خطہ ایک نئی اور ممکنہ طور پر وسیع جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو جنگ بندی کا خاتمہ ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دنیا کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیںجہاں فیصلہ ہونا ہے کہ سفارت کاری جیتے گی یا تصادم۔