اقوام متحدہ کی آبنائے ہرمز میں پابندیوں پر تشویش
آبی گزرگاہ کی صورتحال پر “بہت زیادہ سرگرمی” اور “شدید ابہام” پایا جا رہا ہے
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتینو گوتریس نے آبنائے ہرمز میں لگائی گئی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی بحری حقوق اور جہاز رانی کی آزادی کو مکمل طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر “بہت زیادہ سرگرمی” اور “شدید ابہام” پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں بحری واقعات پر سیکریٹری جنرل کو تشویش لاحق ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو تمام فریقین کو ہر صورت احترام دینا ہوگا۔
ترجمان نے اقوام متحدہ کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فوجی مقصد شہری بنیادی ڈھانچے کی مکمل تباہی یا عام شہریوں کو دانستہ نقصان پہنچانے کا جواز فراہم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی تقریباً 10 سے 12 فیصد کھاد کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، جس کے باعث یوریا اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی منصوبہ بندی اور خریداری کی صلاحیت پر پڑ رہا ہے۔