غیر معینہ فائربندی کا اعلان۔کیا ٹرمپ نےلیوریج تہران کو دے دی؟

امریکی صدرنے خود کومقابل کے سامنے کمزور پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے

               
April 22, 2026 · امت خاص

 

ایران کی جنگ میں سنجیدگی سے دور اور متضاد بیانات کی بھرمار کے بعد غیر معینہ فائربندی کا اعلان کرکے امریکی صدرنے خود کومقابل کے سامنے کمزور پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔سفارتی اور تزویراتی ماہرین کا تاثر ہے کہ شایدوہ ایکسپوزہوگئے ہیں۔

 

برطانوی اخبار ’’ گارڈین ‘‘ کے مطابق ،ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں،حقارت اورمتکبرانہ بیانات کا امتزاج، اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی کے تحت دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات میں اتنی ہی بڑی رکاوٹ بن گیا ہے جتنی ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی۔

 

ایرانی وزارت خارجہ جتنا بھی اصرار کرے کہ وہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے بارے میں سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے ہر بیان (جو کبھی کبھی دن میں سات تک پہنچ جاتے ہیں) کا جواب نہیں دے گی، لیکن تہران ان سب کو نظر انداز نہیں کر سکتا، چاہے وہ ان نجی باتوں کے برعکس ہی کیوں نہ ہوں جو ایرانیوں کو ٹرمپ کے اصل ارادوں کے بارے میں بتائی جا رہی ہیں۔ درحقیقت، ٹرمپ کی بے صبری اور سفارت کاری کا اکھڑ انداز اب حل کی راہ میں اپنے طور پر ایک مستقل رکاوٹ بن چکا ہے۔

 

گھانا کے ایرانی سفارتی مشن کی طرف سے ٹرمپ کی روزمرہ زندگی کے احوال کا تجزیہ یوں پیش کیا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں امریکہ کے صدر نےہرمز کی بندش پر ایران کا شکریہ ادا کیا؛ ایران کو دھمکی دی؛ چین پر الزام لگایا؛ چین کی تعریف کی؛ ناکہ بندی کو کامیاب قرار دیا؛ اس بات کی تصدیق کی کہ ایران نے ناکہ بندی کے باوجود تیل کی ترسیل ممکن بنائی ؛ ایران کے ساتھ معاہدے کا وعدہ کیا؛ اور وعدہ کیا کہ ایران پر بم گریں گے۔سفارت خانے کے مطابق ٹرمپ ایک ایسا واٹس ایپ گروپ ہیں جس میں وہ خود ہی اکیلے ممبر ہوں۔

 

ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے ٹرمپ کے بارے میں کہاکہ وہ بہت زیادہ باتیں کرتے ہیں۔ منگل تک، متضاد ریمارکس کے ایک سلسلے میں، ٹرمپ نے کہاکہ میں بمباری کی توقع کر رہا ہوں،مزید کہا کہ فوج کارروائی کے لیے تیار ہے، جس کا اشارہ اس ڈیڈ لائن کی طرف تھا جس میں وہ توسیع نہیں کر رہے تھے۔ پھر بھی دو جملوں کے بعد انہوں نے کہا کہ ایرانی بدھ سے شروع ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

 

متضاد جذبات کے ملاپ سے انہوں نے بیک وقت ایران کی تعریف بھی کی اور اسے دفن بھی کر دیا۔ انہوں نے کہا، “ایران خود کو ایک بہت اچھی پوزیشن پر لا سکتا ہے، ایک مضبوط قوم، ایک شاندار قوم۔ ان کے پاس ناقابل یقین لوگ ہیں، لیکن پھر اضافہ کیا: وہ خونخوار معلوم ہوتے ہیں اور بدقسمتی سے ان کی قیادت کچھ بہت ہی سخت گیر لوگ کر رہے ہیں اور وہ بھی اچھے طریقے سے نہیں۔ ہم ان سے کہیں زیادہ سخت ہیں – دور دور تک کوئی مقابلہ نہیں – لیکن انہیں عقل اور فہم سے کام لینا چاہیے، نہ کہ موت اور ہولناکی پر مبنی ملک بننا چاہیے۔

 

ممکن ہے کہ اس سب کا مقصد ایران کے سفارتی ریڈار کو الجھانا ہو، لیکن اب تک اس کا واحد اثر یہ ہوا ہے کہ ایران پہلے سے زیادہ محتاط اور پرعزم ہو گیا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں کسی معاہدے پر راضی ہو گا جب اس میں نفاذ کا ایک واضح اور ناقابل واپسی طریقہ کار شامل ہو، جو ٹرمپ کو کسی بھی طے شدہ معاہدے پر قائم رہنے کا پابند کرے۔

 

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ،گزشتہ چند ہفتوں میں دوسرا موقع ہے جب صدر ٹرمپ نے جنگ میں شدت لانے کی دھمکی پر عمل پیرا ہونے سے گریز کیا اور پیچھے ہٹے۔ اس اعلان سے انھوں نے کچھ وقت حاصل کیا ہے جس میں وہ دو ماہ سے جاری اس تنازع کو ختم کر سکتے ہیں۔تاہم ٹرمپ کا یہ اعلان ماضی میں ان کی سوشل میڈیا پوسٹوں کے مقابلے میں کچھ نپا تلا تھا۔ اس سے شاید ٹرمپ کی اس خواہش کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی جنگ کو ختم کریں جس نے ایک جانب عالمی معیشت کو بڑا دھچکا دیا ہے تو دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں میں بھی غیر مقبول ہے۔

 

ایران نے اس دوران اپنے اتحادی عسکری گروہوں کی حمایت یا جوہری پروگرام کو ختم کرنے میں دلچسپی بھی ظاہر نہیں کی۔ اور یہ دو ٹرمپ کے بقول ان کی سرخ لکیریںہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ دونوں حتمی معاہدے کا حصہ ہوں۔

 

کارنیگی انڈاؤمنٹ سے وابستہ سینئر فیلوایرن ڈیوڈ ملر، امریکہ کے پاس اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں۔ایران نے 1979ں1980کے یرغمالی بحران کے ذریعے ایک امریکی صدر کے بعد ایک اور صدر کو اُس جنگ میں، جس کا آغاز اسی نے کیا تھا، جغرافیے کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے عملاً یرغمال بنا لیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی کیٹلن کولنز نے سینیٹر الزبتھ وارن کا ایک کلپ شیئر کی، جس میں وہ کہتی ہیں کہ اب ہمارے پاس جنگ بندی کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں ، ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے بھی کوئی ٹائم لائن نہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کی بھی کوئی ٹائم لائن موجود نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہے اور اب وہ وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے۔

 

منگل کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن کی مصروفیات کو جس طرح عالمی میڈیامیں رپورٹ کیا گیا ہے ، جو بتاتی ہیں کہ امریکہ کے حکام اسلام آباد جانے کو تیار کھڑے تھے ،اس کے پیش نظرلگتاہے ایرانی اپنے حریف کی کمزوری سمجھ گئے ہیں۔اور اب مذاکرات کا انعقا دتہران سے وفد کی آمد پر منحصربھی ہوگا اور مشروط بھی۔کیا ٹرمپ نے لیوریج تہران کو دے دی ہے، اس کا جواب آئندہ دنوں میں واضح طورپر کھل کر سامنے آئے گا۔