کمبوڈیا میں محصور پاکستانیوں کی دہائی: وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے فوری مدد کی اپیل

کمبوڈیا میں پاکستانی سفارت خانے کو متحرک کیا جائے ،مقامی حکام کے ساتھ مل کر ان مراکز پر چھاپے مار کر پاکستانیوں کو رہا کروائیں۔

               
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد : کمبوڈیا کے مختلف علاقوں میں انسانی اسمگلنگ اور آن لائن اسکیمنگ نیٹ ورکس کے چنگل میں پھنسے درجنوں پاکستانیوں کی حالتِ زار پر سوشل میڈیا پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متاثرہ خاندانوں اور سوشل میڈیا صارفین نے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے بے یار و مددگار پاکستانیوں کی باحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنائیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اپیلوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ ایک خالصتاً انسانی مسئلہ ہے جسے سیاست کی نظر نہیں ہونا چاہیے۔

متاثرین کے مطابق بیرونِ ملک روزگار کا جھانسہ دے کر انہیں کمبوڈیا بلایا گیا جہاں انہیں ‘سائبر غلامی ا شکار بنا لیا گیا۔ کئی نوجوانوں کو زبردستی کمپاؤنڈز میں قید رکھ کر آن لائن مالی فراڈ کروانے پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ انکار کی صورت میں ان پر تشدد بھی کیا جاتا ہے۔

متاثرین کا کہنا ہے کمبوڈیا میں پاکستانی سفارت خانے کو متحرک کیا جائے تاکہ وہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر ان مراکز پر چھاپے مار کر پاکستانیوں کو رہا کروائیں۔

متاثرین کو فوری قونصلر رسائی دی جائے اور ان کے سفری دستاویزات بحال کیے جائیں۔