پاکستانی ثالثی میں بیک چینل ایران،امریکہ مذاکرات۔کیااب بھی پیش رفت ممکن ہے؟

اگر دوبارہ حملے شروع کیے گئے تو تمام کوششیں ضائع ہوجائیں گی

               
  May 1, 2026 · امت خاص

 

ایران جنگ کو معاہدے کے ذریعے ختم کرانے کی پاکستانی کوششیں جاری ہیں،اور یہ سلسلہ بیک چینل کے ذریعے آگے بڑھ رہاہے۔برطانوی اخبار کے مطابق، پاکستان اب تک ایران اور امریکہ کے درمیان تجاویز کا تبادلہ کر رہا ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو زندہ رکھا جا سکے اور امن معاہدے کی طرف بڑھا جا سکے۔

 

’’ گارڈین‘‘ کا پاکستانی حکام کے حوالے سے کہناہے کہ اسلام آباد تین ہفتوں سے زائد عرصے سے قائم جنگ بندی کے تسلسل کو ایک بڑی کامیابی سمجھتا ہے۔ تہران اور واشنگٹن نے کہا ہے کہ پاکستان مذاکرات کا بنیادی ذریعہ بنا ہوا ہے،زیر اعظم شہباز شریف نے گذشتہ دنوں کہا کہ انہیں ایران کی طرف سے ایک نظر ثانی شدہ پیشکش ملنے کا وعدہ کیا گیا ہے جسے آگے پہنچانا ہے۔

 

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہاکہ سفارت کاری کی گھڑی نہیں رکی، اور مزید کہا کہ اگر دونوں فریق ٹیلی فون پر بات کریں تو یہ بھی مفید ہو گا۔ پرانی، نئی، قدرےپرانی ، اور قدرے نئی تجاویز میز پر ہیں۔

 

اسلام آباد کا خیال ہے کہ امن عمل میں بالمشافہ ملاقاتوں کے بغیر بھی پیش رفت ہوسکتی ہے، معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ لیکن اسے ایک ایسے ایران کا سامنا ہے جو حدسے زیادہ سختی دکھا رہا ہے،دوسری طرف امریکی انتظامیہ ہے جسے سمجھوتہ نہیں بلکہ مکمل فتح چاہیے۔اس دوران ، آبنائے ہرمز کش مکش کا میدان ہے۔

 

جرمن نشریاتی ادارے نے لکھاہے کہ ایران کا ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ پہلے امریکہ اس کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرے۔ صدر ٹرمپ اس پر تیار نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پہلے ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے۔ ایسے میں مذاکرات کی سطح پر کسی نئی اور فوری پیش رفت کی امید اس لیے کم ہے کہ یہ کوششیں نہ صرف اب تک بے نتیجہ رہی ہیں بلکہ تعطل کا شکار بھی ہیں۔لیکن اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے، تو اب تک سفارتی مذاکراتی کوششوں اور فائر بندی دونوں سے حاصل شدہ نتائج ضائع ہو جائیں گے۔

 

امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر مسعود خان کے مطابق،اسلام آباد صرف دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات منتقل نہیں کر رہا، پاکستان ایک پیچیدہ کردار بطور ثالث ادا کر رہا ہے۔ ایران لمبی بازی کھیلنے کا اشارہ دے رہا ہے، اور امریکہ فوری نتائج چاہتا ہے۔