آبنائے ہرمزمیں بارودبردار مچھلیوں سے امریکی بحری جہازتباہ کرنے کا ایرانی منصوبہ

کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی میں ایسے ہتھیاروں کا استعمال شامل ہو سکتا ہے جو پہلے کبھی استعمال نہیں کیے گئے

               
  May 2, 2026 · امت خاص

 

ایران بارودی سرنگوں سے لیس ڈولفنز کو آبنائے ہرمز میں دھماکے کرنے اور اسے کھولنے کے لیے استعمال کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ آبنائے کئی ہفتوں سے امریکی فوجی ناکہ بندی کی زد میں ہے اور معاشی طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ اگرچہ امریکہ کے ساتھ عارضی جنگ بندی ابھی قائم ہے لیکن ایران میں سخت گیر عناصر کی بڑھتی ہوئی تعداد کا خیال ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی تیل کی برآمدات روکنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا مالی بحران اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ انہوں نے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب میڈیانے ’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ کے حوالے سے بتایاکہ ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی میں ایسے ہتھیاروں کا استعمال شامل ہو سکتا ہے جو پہلے کبھی استعمال نہیں کیے گئے تاکہ خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ ان میں بارودی سرنگوں سے لیس ڈولفنز بھی شامل ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ تہران اس آبی گزرگاہ میں آبدوزیں بھیج سکتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب پہلے ہی آبنائے سے گزرنے والی اہم مواصلاتی کیبلز کو کاٹنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اس سے عالمی سطح پر انٹرنیٹ اور مواصلات میں بڑے پیمانے پر خلل پڑ سکتا ہے اور تناؤ میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ، تہران میں اس محاصرے کو تیزی سے جنگ کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ جنگ کی ہی ایک شکل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس لیے ایران میں فیصلہ ساز جلد ہی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ طویل مدتی ناکہ بندی کو برداشت کرنے کے مقابلے میں دوبارہ تنازع کا راستہ اختیار کرنا کم مہنگا ہے۔

واضح رہے کہ ایک ایرانی فوجی عہدیدار نےکہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے، کیونکہ امن مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو رہی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبھی حالیہ ایرانی تجویز پر تنقید کی ہے۔

ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز میں معائنہ کے نائب سربراہ محمد جعفر اسدی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ تصادم کا امکان موجود ہے۔