جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار

ریزرو یونٹس کے اہلکار جو ہاتھ لگتا ہے لے جا رہے ہیں جن میں اسلحہ، زیورات، کمبل، یادگاری اشیاء اور یہاں تک کہ ذاتی تصاویر بھی شامل

               
  May 3, 2026 · بام دنیا

تل ابیب: جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائی کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے لبنانی شہریوں کے گھروں اور دکانوں میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے انکشافات ہوئے ہیں، جس نے اسرائیلی عسکری قیادت کے لیے سردرد پیدا کر دیا ہے۔

عینی شاہدین کے بیانات اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے ایک اسرائیلی ریزرو فوجی کا بیان نقل کیا ہے جس میں اس نے اعتراف کیا کہ سرحد پر موجود کئی یونٹس لوٹ مار میں ملوث ہیں۔

فوجی کے مطابق ریزرو یونٹس کے اہلکار جو ہاتھ لگتا ہے لے جا رہے ہیں— جن میں اسلحہ، زیورات، کمبل، یادگاری اشیاء اور یہاں تک کہ ذاتی تصاویر بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک موقع پر ایک اسرائیلی کمانڈر کو اپنے فوجیوں کو لوٹا ہوا سامان اسرائیل منتقل کرنے سے روکتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

ایک اور اسرائیلی اخبار ’ہاریٹز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے ان لبنانی گھروں اور دکانوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جن کے مالکان جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کر چکے تھے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اس سے قبل غزہ کی جنگ کے دوران بھی اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے اسی طرح کی لوٹ مار کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

عسکری قیادت کی وارننگ فوجیوں کی ان غیر اخلاقی سرگرمیوں پر اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے سینئر فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے لوٹ مار کے واقعات پر سخت وارننگ جاری کی، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اعلیٰ قیادت ان واقعات کو روکنے میں تاحال ناکام نظر آتی ہے۔