امریکہ جرمنی میں ٹوماہاک میزائل تعینات نہیں کرے گا۔ جرمن چانسلر

فی الحال ہتھیاروں کی فراہمی ممکن نہیں، نیٹو میں امریکی کردار بدستور اہم قرار

               
  May 4, 2026 · بام دنیا

جرمنی کے چانسلر فریڈرک میرٹس نے کہا ہے کہ امریکہ فی الحال جرمنی میں ٹوماہاک کروز میزائل تعینات نہیں کرے گا، تاہم اس فیصلے کا تعلق ایران جنگ کے حوالے سے ان کی حالیہ تنقید سے نہیں ہے۔
انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکا کے پاس خود اپنے لیے بھی ایسے میزائلوں کی کمی ہے، اس لیے عملی طور پر ان ہتھیاروں کی فراہمی کا امکان نہیں۔
یہ میزائل 2024 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے جرمنی کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاکہ یورپ اپنے نظام تیار ہونے تک دفاعی توازن برقرار رکھ سکے۔
چانسلر نے جرمنی سے 5 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کے انخلا کو بھی کوئی نئی بات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دستے عارضی طور پر تعینات کیے گئے تھے اور ان کی واپسی پر کافی عرصے سے غور جاری تھا۔
انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلانات اور ان کی اپنی تنقیدی بیانات کے درمیان کوئی تعلق ہے، اور کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔
فریڈرک میرٹس نے نیٹو میں امریکی جوہری اشتراک کے حوالے سے یقین دہانی کرائی کہ اس میں کسی قسم کی کمی یا سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا اور شمالی اوقیانوس اتحاد میں امریکا بدستور سب سے اہم شراکت دار ہے۔