کروز جہاز پر مبینہ ’ہانٹا وائرس‘ سے 3 افراد ہلاک
ایک کیس کی تصدیق ہو چکی،مزید پانچ مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔ ڈبلیو ایچ اور
عالمی ادارۂ صحت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بحرِ اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک کروز جہاز پر مبینہ ’ہانٹا وائرس‘ کے پھیلاؤ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک کیس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید پانچ مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ 69 سالہ برطانوی شہری اس وقت جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرِ علاج ہیں۔
یہ وبا ’ایم وی ہونڈیئس‘ نامی کروز شپ پر رپورٹ ہوئی جو ارجنٹینا سے کیپ وردے کی جانب سفر کر رہا تھا۔
ہانٹا وائرس عام طور پر متاثرہ چوہوں کے پیشاب یا پاخانے سے ہونے والے ماحولیاتی رابطے کے ذریعے پھیلتا ہے، تاہم نایاب صورتوں میں یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شدید سانس کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔
جنوبی افریقہ کے محکمۂ صحت کے ترجمان فوسٹر موہالے کے مطابق 70 سالہ شخص اس وقت اچانک بیمار ہو گئے کہ جب کروز جہاز ارجنٹینا کے شہر اوشوآیا سے جزیرہ سینٹ ہیلینا کی جانب رواں دواں تھا۔
ترجمان کے مطابق مریض میں بخار، سر درد، پیٹ درد اور اسہال کی علامات ظاہر ہوئیں اور وہ سینٹ ہیلینا پہنچنے پر دم توڑ گیا۔
محکمۂ صحت کے ایک اور ترجمان نے بتایا کہ جہاز پر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 سیاح سوار تھے اور یہ جہاز جنوبی ارجنٹینا کے شہر اوشوآیا سے تقریباً تین ہفتے قبل روانہ ہوا تھا۔
بیان کے مطابق یہ کروز جہاز کینری آئی لینڈز کی جانب رواں تھا، جس کے دوران اس نے مین لینڈ انٹارکٹکا، فاک لینڈ جزائر، ساؤتھ جارجیا، نائٹنگیل آئی لینڈ، ٹرستن، سینٹ ہیلینا، اسینشن اور کیپ وردے سمیت متعدد مقامات پر رکنا تھا۔