10مئی 2025 کے وہ چندگھنٹے ،جن کے بعد بھار ت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا
پاکستانی قیادت نے واضح کردیا تھاکہ یہ گزہے اور یہ میدان
تصویر: سوشل میڈیا
65 میں چونڈہ کے مقام پر ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی تھی۔ مئی 2025 میں برصغیر پاک وہند میں پہلی بار میزائل وار ہوئی جس نے نئی دہلی سے لے کرواشنگٹن تک دنیاکوحیران کردیا۔خاص طورپر 9اور 10مئی کی درمیانی رات اس حوالے سے ایک اہم واقعہ ثابت ہوئی۔چوتھی بڑی اور پاکستان سے تین گنا زیادہ طاقت ور عسکری قوت ہونے کا دعویٰ کرنے والی بھارت سرکار10مئی کی صبح جنگ بندی کی طلب گار اور امن کی علم بردار بن گئی۔
صرف چندگھنٹوں میں امریکی بیانیہ بھی تبدیل ہوا۔آخر10مئی کی رات ایسا کیا ہوا جس نے بھارت کاغرورخاک میں ملا دیا۔یہ سب جاننے کے لیے ہمیں مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ جانا ہوگاجہاں ایک سیاحتی مقام واقع ہے ،جس کا نام ہے پہلگام۔
22 اپریل 2025 کوکم از کم چار مسلح حملہ آوربیسارن وادی کےمیں داخل ہوئے، پہلگام شہر سے تقریبا 7 کلومیٹر دور یہ علاقہ چاروں طرف سے گھنے چیڑ کے جنگلات سے گھرا ہوا ہے، اِس جگہ کو ’’مِنی سویزرلینڈ‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ مقام سیاحت کی ایک مقبول جگہ ہے۔حملہ آوروں نے وہاں خون کی ہولی کھیلی اور لگ بھگ 2 درجن افراد کوقتل کردیا۔
بھارت نے آئو دیکھانہ تائو ، جھٹ پاکستان پر الزام لگادیا۔آدھے گھنٹے میں ایف آئی آربھی درج ہوگئی اور بغیر تفتیش کے پاکستان کو اس حملے کاذمہ دار قراردے دیا گیا۔انہی دنوں امریکہ کے نائب صدرجے ڈی وینس چارروزہ دورے پر بھار ت میں تھے۔دورہ مکمل کرکے وہ واپس امریکہ چلے گئے۔چندروزبعد 6 اور 7مئی کی درمیانی شب پاکستان کے شہری مقامات پر بھارت نے میزائل سے حملے کیے۔اس کے ایک روزبعد 8مئی کو جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع میں مداخلت نہیں کرے گا۔ ’’ فوکس نیوز‘‘ کو انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ اس لڑائی سے ہمار اکوئی لینادینانہیں۔اٹس نن آف آور بزنس۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکہ تنازع کو کم کرنے کی کوشش تو کرے گا، لیکن دونوں فریقوں کو مجبور نہیں کر سکتا۔
قبل ازیں،بھارتی وزیرخارجہ ایس جے شنکرنے امریکہ کے وزیرخارجہ مارکوروبیو سے ٹیلی فونک گفتگوکے بعد کہا تھاکہ پہلگام حملے کا ارتکاب کرنے والوں ،ان کے حامیوں اور منصوبہ سازوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔شنکرکے بقول روبیوکا کہناتھاکہ واشنگٹن کی حمایت بھارت کو حاصل ہے۔روبیوکا اسلام آباد سے مطالبہ تھا کہ وہ پہلگام حملے کی تفتیش میں تعاون کرے۔
امریکی بیانیہ واضح طورپر نئی دہلی کی طرف جھکا ہوا تھا۔
سی این این کے مطابق، امریکہ کے نائب صدرنے بھی کہاتھاکہ امید ہے پاکستان اس حملے کے ملزمان کو پکڑنے میں مددد کرے گا ۔انہوں نے بھارتی بیانیہ اپناتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ دہشت گردی بعض اوقات پاکستان کے اندرسے کارروائیاں کرنے جاتے ہیں۔پاکستان، جس حد تک وہ ذمہ دار ہے، بھارت سے تعاون کرے تاکہ ان دہشت گردوں کا شکار کیا جائے اور ان سے نمٹا جائے جو ان کے علاقے میں سرگرم رہتے ہیں۔
ان دنوں امریکی میڈیا عسکری میدان میں بھارتی سبقت کے راگ الاپ رہاتھا۔ سی این این کا اسی رپورٹ میں یہ بھی کہناتھاکہ کسی بھی روایتی جنگ میں بھارت کوواضح فوجی برتری حاصل ہے۔ایک ملٹری بیلنس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ، بھارتی دفاعی بجٹ پاکستان کے دفاعی بجٹ سے نو گنا سے زیادہ ہے۔
پاکستان کے ٹینک بھارت کے صرف دو تہائی ہیں اور اس کے پاس بھارتی توپ خانے کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم آلات ہیں۔سمندر میں بھارتی بحریہ کی برتری غالب ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق لڑاکا طیاروں اور گراؤنڈ اٹیک طیاروں کی تعداد میں بھارت کو بھاری برتری حاصل ہے۔اور بھارت کے پاس پاکستان سے زیادہ رینج کے بیلسٹک میزائل ہیں۔
دنیااس تاثر پر قائم تھی کہ بھارت ایک بڑی فوجی طاقت ہے ۔ اعدادوشمار اس کے حق میں ہیں۔پاکستان کی عسکری قوت حریف سے بہت کم ہے۔اسی دوران ،6مئی کا دن آگیا۔
پہلگام حملے کے بعد بھارت نے سفارتی تعلقات کی سطح کم کردی تھی، پروازیں بند، اور معاہدے معطل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ بات صاف تھی کہ وہ پاکستان کو فوجی کارروائی کا نشانہ بنائے گا۔ان حالات میں پاکستانی قیادت نے واضح کردیا تھاکہ یہ گزہے اور یہ میدان۔اگر دشمن جارحیت پر آتاہے تو منہ توڑجواب ملے گا۔
6اور 7 مئی کی درمیانی شب ،اپنی طاقت کے غرورمیں ڈوبادشمن پاکستان پر حملہ آور ہوا۔ پنجاب اور آزادکشمیر میں کئی مقامات پر میزائل داغے گئے جن سے دومساجد متاثر ہوئیں اور کئی شہری شہید ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
بھارت نے یہ کارروائی فضائیہ کے ذریعے کی تھی اور کچھ میزائل زمین سے چلائے ۔اسے ’’ آپریشن سندور‘‘ کا نام دیاگیا۔
پاکستانی فضائیہ حرکت میں آئی اور سرحدپار اپنی فضامیں موجود 100 کے قریب دشمن طیاروں سے جھڑپ شروع کردی۔یہ برصغیر کی فوجی طاقت کا توازن دوبارہ لکھے جانے کا آغازتھا۔پاکستانی طیاروں نے اپنی حدودمیں رہ کر بھارتی فضامیںمحوپرواز لڑاکا جہازنشانے پر لے لیے۔ دشمن کو جس رافیل پر نازتھا وہ بھی زمین بوس ہوگیا۔ اس جھڑپ میں تین رافیل ، ایک ایس یوتھرٹی ، ایک مگ 29 اور ایک میراج طیارہ پاک فضائیہ کے میزائلوں کا نشانہ بن کر تباہ ہوگئے۔ ایک جنگی ڈرون بھی گرایاگیا۔
بھارتی چیف آف ڈیفنس جنرل انیل چوہان سمیت کئی اعلیٰ فوجی افسران بالواسطہ اعتراف کرچکے ہیں کہ اس جھڑپ میں بھارتی فضائیہ کو نقصانات اٹھانے پڑے۔ عالمی میڈیاسے بھی ایسے کئی شواہد کی تصدیق سامنے آئی۔
7مئی کا دن جنوبی ایشیا کی پہلی ڈرون جنگ ساتھ لے کر آیا۔ دونوں ایک دوسرے کی حدودمیں نگران اور حملہ آور ڈرون بھیجتے رہے۔ یہ سلسلہ تین روزتک متواترجاری رہا۔پاکستانی فوج نے تمام حملہ آور ڈرون مارگرائے ۔
7 سے 9مئی تک عالمی ذائع ابلاغ پر بھارتی طیاروں کی تباہی کا چرچارہا۔مقبوضہ کشمیر اور بھارتی پنجاب میں گرنے والے طیاروں کے ملبے کی تصاویر اوروڈیوزآئیں ۔لائن آف کنٹرول پر بھاری گولہ باری کا تبادلہ بھی جاری رہا۔لیکن فیصلہ کن معرکہ ابھی باقی تھا۔
9اور10مئی کی درمیانی رات ، برصغیر کی جنگی تاریخ میں ایک سنگ میل بن کرآئی۔بھارت نے طیاروں سے براہموس کروزمیزائلوں کے ساتھ پاکستان کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جن میں راولپنڈی کا نورخان ائربیس بھی شامل تھا۔جی ایچ کیوکے قریب واقع یہ ائربیس اور اس کامضافاتی علاقہ اس رات میزائلوں کی پروازوں اور انہیں مارگرائے جانے سے پیداہونے والی آگ سے روشن رہی۔
نصف شب کے بعد پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل شریف احمدچوہدری ٹی وی پر آئے اور کہا کہ اب تم ہمارے جواب کا انتظارکرو۔
Now you just wait for our response
اس الٹی میٹم کے فوراً بعد پاکستانی فوج نے ’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کا آغاز کیا۔اب جلدہی فضائیں میزائلوں کی آگ سے مزید روشن ہونے کو تھیں۔
پاکستانی فضائیہ بھی حرکت میںآئی اور دشمن کے کئی فوجی ٹھکانوں پرحملے کیے لیکن ’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کااصل وار میزائل سٹرائیک تھی۔’’ فتح 1‘‘ اور ’’ فتح2‘‘ بیلسٹک میزائلوں نے بھارت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جن میں میزائلوں کے ذخائر اور کئی اہم ائربیسزشامل تھے۔
یہ برصغیر میں میزائلوں کی سب سے بڑی جنگ تھی۔ الجزیرہ نے’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے حوالے سے 10 مئی 2025 کو لکھا کہ جنوبی ایشیا کے حریفوں نے اپنے کبھی اس پیمانے پر ایک دوسرے پر حملے نہیں کیے تھے۔
نشانہ بنائے جانے والے اہداف یہ تھے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی شمالی کمان کا ہیڈکوارٹر اودھم پور ، پٹھان کوٹ ائربیس، درانگیاری آرٹلری پوزیشن، اڑی ڈپو،نگروٹا میں براہموس میزائلوں یک سٹوریج، بیاس میں براہموس میزائلوں کی سٹوریج،آدم پور میں ایس 400 میزائل ڈیفنس یونٹ، بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کے صوبے گجرات میں بھج ائربیس شامل تھے۔
پاکستانی فوج نے میزائل فائرکرنے کی وڈیوزبھی جاری کیں جن میں ملٹی ٹیوب لانچرز کے ذریعے بیک وقت کئی میزائل دشمن کی طرف روانہ ہونے کے مناظر واضح طورپر دیکھے جاسکتے ہیں۔
دفاعی تحقیق ومطالعاتی مرکز سٹمسن سنٹر کے مطابق،یہ پہلی بار تھاکہ خطے نے بڑی تعدادمیں دوطرفہ میزائل حملوں کی جنگ دیکھی۔جس کے پہلے روز بھارت نے کئی طیارے بھی کھودیئے تھے۔
تیزرفتار میزائلوں کی بارش نے دشمن کے ہوش کیسے اڑائے؟
10 مئی کی رات بھارت کے لیے ڈرائوناخواب تھی۔جب اینٹ کا جواب پتھرسے ملا اور دشمن کے کئی فوجی ٹھکانے تباہی سے دوچارہوگئے تو نئی دہلی میں بھارتی حکمرانوں اور جرنیلوں پر لرزہ طاری تھا۔انٹرسیپٹ کرنے کی صلاحیت کے باوجود کئی میزائلوں نے اپنے اہداف کو نقصان پہنچایا۔
بھارتی آپریشن سندورکی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی نے اعتراف کیا کہ پاکستانی فوج نے 26 سٹرٹیجک ٹارگٹس پر ہائی سپیڈ میزائلوں سے حملے کیے ، جن میں فرنٹ لائن ائربیسزبھی شامل ہیں لیکن ہم کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔
10مئی کا سورج طلوع ہونے کے بعد بھارت کا صرف ایک ہدف تھا: جنگ بندی۔واشنگٹن سے رابطے شروع ہوئے جس کے بعد امریکی انتظامیہ متحرک ہوگئی اور جنگ رکوانے کے لیے مزید کئی ملکوں نے بھی کوششیں شروع کیں۔ اس دوران،امریکی میڈیانے رپورٹ کیا کہ بھارت نےتصادم روکنے کی خواہش ظاہرکی ۔فاکس نیوزٹی وی کے مطابق اس کے جواب میں پاکستان کا کہناتھا کہ ہم اس پر غورکریں گے۔بھارتی فوج کی ایک اورترجمان ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ کے مطابق اگر پاکستان تیارہوتو بھارت non-escalation کا پابند ہے ۔الجزیرہ لکھتاہے کہ بھارت نے 10 مئی کو کہا کہ اگر پاکستان بھی جواباً ایسا ہی کرے تو وہ اس معاملے کو روکنے کے لیے تیار ہے۔
بھارتی جنگی طاقت کا گھمنڈ سفارت کاری میں تبدیل ہوگیا جو بالآخر کامیاب ہوئی اور امریکہ کے توسط سے پاکستان بھی جنگ بندی پر تیار ہوگیا۔ بھارت کے
خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نےپریس بریفنگ کے دوران باقاعدہ سیزفائر نافذ ہونے کا وقت بتایا۔ انہوں نے کہا کہ شام 5 بجے سے تمام زمینی،فضائی اور سمندری کارروائیں روک دی جائیں گی۔
جنگ بندی کا باضابطہ اعلان امریکی صدر ٹرمپ نے کیا جس کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں نے اس کی تصدیق کردی۔سی این این کا بتاناتھاکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے اور جے ڈی وینس نے بھارت اور پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے بات چیت کی تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے پہلے جنگ بندی پر اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے۔وہی روبیو اور جے ڈی وینس ، جن کا بیانیہ محض چند گھنٹے پہلے تک بالکل مختلف تھا۔
بعد میں پاکستانی حکومت نے اس چارروزہ جنگ کو ’’ آپریشن معرکہ حق‘‘ سے موسوم کیا۔