بھارت میں ریاستی انتخابات کے نتائج نے خطرے کی گھنٹی بجادی

اپوزیشن جماعتیں الیکشن پر سخت تنقید کرتی آرہی تھیں

               
  May 6, 2026 · امت خاص

 

بھارت میں ریاستی انتخابات کے نتیجے میں سیاست کا توازن بگڑتانظرآرہاہے ۔صرف سیاست ہی نہیں بلکہ اس کا پورا سماجی نظام شدید خدشات سے دوچار ہوچکاہے۔انتخابی نتائج نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔

5بھارتی ریاستوں میں انتخابات ہوئے ہیں ۔ مغربی بنگال میں انتہاپسند بھارتیہ جنتاپارٹی یعنی بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ وہاں طویل عرصہ سے آل انڈیا ترنمول کانگریس کی حکومت قائم تھی۔ممتابنرجی وزیراعلیٰ ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ، جیسے جیسے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے لگے، دارالحکومت کولکتہ اور دوسرے علاقوں میں جے شری رام کے نعرے گونجنے لگے۔بنگال کی تاریخ میں ایسا شاید ہی پہلے دیکھا گیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے بعد اس ہندو قوم پسند جماعت کو اپنے بعض متنازع سیاسی منصوبوں پر عمل کرنے میں مدد مل سکتی ہےبی جے پی یکساں سول کوڈ نافذ کرناچاہتی ہے تاکہ مختلف مذاہب کے لیے الگ الگ قوانین کے بجائے ایک مشترکہ قانون نافذ کیا جا سکے۔ بھارت کی مسلم اقلیت اس کے سخت خلاف ہے اور اسے اپنے مذہب اور بھارتی آئین کے تحت حاصل حق کے خلاف قرار دیتی ہے۔

ادھر کیرالہ میں سوشلسٹ حکومت کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے اوروہاں بھی بائیں بازوکوشکست کا سامنا کرناپڑاہے۔اسے ریاستی انتخابات کا سب سے بڑا اپ سیٹ قراردیا جارہاہے۔یہاں کانگریس کی قیادت میں کئی جماعتوں کا اتحاد جیت گیا ۔ ’یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے 140 میں سے 98 نشستیں حاصل کرلیں۔ 1977 کے بعد سے اب تک انڈیا کی کسی نہ کسی ریاست میں بائیں بازو کی حکومت ہمیشہ موجود رہی لیکن اب یہ سلسلہ ٹوٹ چکا ہے۔

پانچ دہائیوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں بائیں بازو (لیفٹ ونگ) کی حکومت باقی نہیں رہی۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ پروفیسر افروز عالم نے صورتحال کوایک بڑا بحران قرار دیا۔

ماضی میں بائیں بازو کی سیاست سے انڈیا کے کروڑوں دیہی علاقوںکی زندگیوں میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔جہاں ان کی حکومتیں رہیں، وہاں لینڈ ریفارمز کے ذریعے غریبوں کو تحفظ دیا گیا۔کیرالا کے علاوہ تامل ناڈو میں بھی ایسی حکومت آئی ہے جہاں نریندرمودی کو اپناایجنڈامنوانے میں آسانی ہوگی۔ ممتا بینرجی کے علاوہ ان دو ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ مودی اور بی جے پی کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں انتخابات پر سخت تنقید کرتی آرہی تھیں۔ انہوں نے خاص طور پر الیکشن کمیشن کے ذریعے لاکھوں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹوں سے نکال دینے پر سخت اعتراض کیے۔