کویت میں امریکی اڈے پر کامیاب ایرانی حملے نے پینٹاگان کو کیسے حیران کیا؟
یہ انتہائی سستا اور بنیادی نوعیت کا طیارہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بنایا تھا
تصویر: سوشل میڈیا
مارچ 2026 کی ایک صبح، دفاعی تاریخ کا ڈراؤنا خواب بن کر ابھری۔ کویت میں قائم امریکی اڈہ، جو دنیا کے جدید ترین پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور سینٹینل ریڈارز کے پہرے میں تھا، اچانک دھماکوں سے گونج اٹھا۔ کوئی سائرن نہیں بجا، کوئی وارننگ جاری نہیں ہوئی، اور نہ کسی ریڈار اسکرین پر کوئی دشمن نظر آیا۔
جب دھواں چھٹا، تو پینٹاگون کے کمروں میں کھلبلی مچ گئی۔ حملہ آور کوئی جدید ترین بی-2 اسٹیلتھ بمبار نہیں تھا، بلکہ وہ طیارہ تھا جسے امریکیوں نے خود 50 سال پہلے بنایا تھا اور اب اسے ’’میوزیم کا حصہ‘‘ سمجھا جاتا تھا۔یہ ایف 5 کا ایرانی ورژن ’’ کوثر‘‘ طیارہ تھا۔
جدید جنگی طیارے جیسے ایف 35، الیکٹرانک سگنلز کا ایک سمندر پیدا کرتے ہیں۔ ان میں طاقتور ریڈار اور کمپیوٹرز ہوتے ہیں جو مسلسل سگنل چھوڑتے ہیں، اور یہی سگنلز انہیں ریڈار کی زد میں لے آتے ہیں۔لیکن ایرانی ایف 5 یا کوثر ایک خالص مکینیکل مشین ہے۔ یہ انتہائی سستا اور بنیادی نوعیت کا طیارہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بنایا تھا اور ترقی پذیر دوست ممالک کو فراہم کیا تھا۔ ایران اس وقت امریکہ کے دوستوں میں شمار ہوتا تھا۔ ایف فائیواتنا غیر معیاری طیارہ تھا کہ امریکی فضائیہ نے اسے کبھی استعمال نہیں کیا۔
اسلامی انقلاب کے بعد جب ایران پر پابندی عائد کی گئیں تو اس کی فضائیہ بھی متاثر ہوئی۔ ایسے میں ایران نے ایف فائیو طیارے میں تبدیلیاں کرکے اسے کوثر بنا لیا۔
عالمی میڈیا نے طویل عرصے تک ایران کے ’’کوثر‘‘طیارے کا مذاق اڑایا کہ یہ صرف ایف 5 کا نیا رنگ ہے۔ لیکن کویت حملے نے ثابت کیا کہ ایران نے اس کے ڈھانچے کے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ایران نے اس میں سے وہ تمام پرانے امریکی الیکٹرانکس نکال دیے جو کسی بھی طرح امریکی نیٹ ورک سےٹریک ہو سکتے تھے۔اس کے بعد ایرانی انجینئرز نے اس میں فورتھ جنریشن کے ایویانکس نصب کیے۔ انہوں نے اس کے کاک پٹ کوگلاس کاک پٹ میں بدلا، جس میں ڈیجیٹل اسکرینز پائلٹ کو تمام معلومات دیتی ہیں، لیکن یہ سسٹم مکمل طور پر آف لائن اور انکرپٹڈ ہے۔ انہوں نے طیارے کے وزن کو کم کیا اور انجن کی طاقت بڑھائی، جس سے یہ طیارہ چھوٹے رن وے سے اڑنے اور انتہائی خطرناک موڑ کاٹنے کے قابل ہو گیا۔ یہ دہائیوں پر محیط پابندیوں کا ایران کی طر ف سے وہ جواب تھا جس کی توقع کسی کو نہیں تھی۔
ایرانیوں نے اسے ایک ایسا سادہ شکاری بنا دیا جو اپنی خاموشی کو ڈھال بناتا ہے۔ اس میں کوئی ایسا بڑا ریڈار نہیں جو دشمن کو اپنی موجودگی کی اطلاع دے۔
مزید تفصیل اس وڈیومیں۔