کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن تنازع شدت اختیار کرگیا، کنٹریکٹر کے سنگین الزامات
امین جان کا معاملہ نیب میں بھیجنے کا مطالبہ اور عالمی ثالثی عدالت جانے کی دھمکی
امین جان عدالت کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں
بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر امین جان نے سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں منصوبے سے متعلق سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کمیشن بنانے اور معاملہ نیب کو بھیجنے کا مطالبہ کردیا۔
امین جان کا کہنا تھا کہ منصوبے پر تاحال اصل بی آر ٹی کام شروع نہیں ہوا بلکہ صرف سڑکیں بنائی جا رہی ہیں، موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 30 برسوں میں بھی ریڈ لائن منصوبہ مکمل نہیں ہو سکے گا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے دباؤ میں آکر تمام ذمہ داری ان پر ڈال دی اور ان کا کنٹریکٹ ختم کردیا، جبکہ منصوبے کے ڈیزائن بار بار تبدیل کیے جاتے رہے اور اب تک حتمی ڈیزائن بھی موجود نہیں۔ ان کے مطابق ڈیزائن میں تبدیلیاں مالی مفادات کے لیے کی گئیں اور ان سے بھی پیسے طلب کیے جاتے رہے۔
کنٹریکٹر نے کہا کہ اگر معاملے کی مکمل تحقیقات ہوں تو اصل ذمہ دار سامنے آجائیں گے کیونکہ ہر چیز کا ذمہ دار کنٹریکٹر نہیں ہوتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریزولیوشن بورڈ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور اگر وہ غلط تھا تو حکومت کو اسے چیلنج کرنا چاہیے تھا۔
امین جان کے مطابق چینی کمپنی بھی اس صورتحال پر پریشان ہے کیونکہ اسے یہاں انصاف نہیں مل رہا، جبکہ انہوں نے صدر پاکستان اور وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی اس حوالے سے خطوط لکھے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے معلومات طلب کیں لیکن 21 اپریل کو ان کا کنٹریکٹ ہی منسوخ کردیا گیا۔
کراچی میں بی آر ٹی ٹھیکیدار نے سنگین الزامات عائد کردیئے
امین جان کا معاملہ نیب میں بھیجنے کا مطالبہ اور عالمی ثالثی عدالت جانے کی دھمکی
دباؤ آنے پر حکومت نے میرا کنٹریکٹ منسوخ کردیا، صحافیوں سے گفتگو#KarachiBRT #AminJan #SindhGovt #NAB #BreakingNews #KarachiUpdate #RedLineBRT… pic.twitter.com/g40PTqKdQY— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) May 7, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی روڈ کی سائیڈ سڑکیں تین ماہ میں بنائی جا رہی ہیں جو وہ بھی اسی مدت میں مکمل کرسکتے تھے، اور اب بھی ان کے لوگ وہاں کام کر رہے ہیں۔
امین جان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ماضی میں ہزارہ موٹر وے منصوبہ مقررہ 32 ماہ کے بجائے 26 ماہ میں مکمل کیا جبکہ متعلقہ چینی کمپنی نے دیگر شہروں میں بھی بروقت منصوبے مکمل کیے، تاہم ریڈ لائن میں پیش رفت سست ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 40 فیصد کام مکمل کیا جبکہ چینی کمپنی پانچ سال میں صرف 15 فیصد کام کرسکی، اور اگر یہی طریقہ کار جاری رہا تو منصوبے کی لاگت 80 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
کنٹریکٹر نے خبردار کیا کہ اگر مسائل حل نہ ہوئے تو معاملہ انٹرنیشنل آربیٹریشن میں جاسکتا ہے جس سے نقصان عوام کو ہوگا، اور حکومت پر زور دیا کہ کمیشن بنا کر اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔