پیٹرول اور ڈیزل پر مزید 15 روپے بڑھ گئے، مہنگائی میں اضافے کا خدشہ
نئی قیمت 415 ہوگئی، فصلوں کے سیزن میں زرعی شعبہ شدید متاثر ہوگا
آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی تیل بحران کے باعث حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا، نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے ہوگا۔
وزارتِ توانائی کے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 9 مئی سے ہوگیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے، جبکہ اس سے قبل ڈیزل 399 روپے 58 پیسے فی لیٹر فروخت ہورہا تھا۔
اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اس سے پہلے پیٹرول کی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر تھی۔
رواں ماہ مئی کے دوران یہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوسرا اضافہ ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جبکہ ڈیزل پر 28 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی بھی عائد کی گئی تھی جو پہلے صفر تھی۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل نے ڈیزل 34 ڈالر فی بیرل کے اضافی پریمیم پر درآمد کیا، جس کے باعث ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 120 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔ حکومت اب اس رقم کی وصولی لیوی اور فریٹ چارجز کے ذریعے کررہی ہے۔
ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے بھی حکومت پر پٹرولیم لیوی میں اضافے کا دباؤ موجود ہے۔ وزیرِ پٹرولیم پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ لیوی کو 55 روپے فی لیٹر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے زرعی شعبہ شدید متاثر ہوگا کیونکہ فصلوں کا سیزن جاری ہے اور زرعی لاگت پہلے ہی بلند سطح پر ہے۔ ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھنے سے کھاد کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔
دوسری جانب پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنے والے شہری متاثر ہوں گے، تاہم وزیراعظم پہلے ہی موٹر سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی جاری رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں۔
عالمی سطح پر خلیجی جنگ کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت سمیت کئی خلیجی ممالک کو بھی سپلائی مسائل کا سامنا ہے۔