مہنگے ایندھن اور کھاد سے خوراک کی قیمتیں بڑھنے اور پیداوار متاثر ہونے کا خطرہ
مغربی کیپ یونیورسٹی کے فوڈ سیکیورٹی ماہر جولین مے نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش افریقہ میں زرعی سرگرمیوں اور کسانوں پر سنگین اثرات ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی خوراک کی قیمتوں میں منتقل ہو رہا ہے، جس سے براعظم میں زرعی پیداوار کی سطح بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
جولین مے کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی طویل ہوتی ہے تو افریقہ میں فصلوں کی بوائی کے سیزن متاثر ہونے کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا، خاص طور پر اس وقت جب کئی ممالک بارشوں کے موسم میں ہیں اور کھاد پر انحصار کرتے ہوئے فصلوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افریقہ میں خوراک کی ترسیل زیادہ تر ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے کیونکہ ریل نظام زیادہ ترقی یافتہ نہیں، جبکہ زراعت، آبپاشی اور ریفریجریشن کے لیے بھی تیل پر انحصار بہت زیادہ ہے، جس سے بحران کا اثر مزید بڑھ سکتا ہے۔
ان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے بڑے شہری مراکز اور وہ علاقے ہوں گے جو مکئی جیسے بنیادی اناج پر انحصار کرتے ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ افریقہ ایک متنوع براعظم ہے اور کچھ علاقوں میں کیلے اور ٹیف جیسے روایتی اناج استعمال ہوتے ہیں، جو اس صورتحال سے نسبتاً کم متاثر ہوں گے۔