امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پھر مسترد
ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود ریپبلکنز کی صدر کو حمایت ، ڈیموکریٹس نے فیصلے کو قانون کی خلاف ورزی قرار دے دیا
فائل فوٹو
واشنگٹن : امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات کو لگام دینے کی قرارداد انتہائی کم فرق سے مسترد کر دی ہے۔ یہ ووٹنگ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وائٹ ہاؤس کے لیے کانگریس سے باضابطہ اجازت حاصل کرنے کی 60 روزہ قانونی مدت (ڈیڈ لائن) ختم ہو چکی ہے۔
اوہائیو سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جیف میرکلے کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 49 جبکہ مخالفت میں 50 ووٹ آئے۔ فروری کے آخر میں ایران کے ساتھ شروع ہونے والے تنازع کے بعد سے اب تک ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی یہ ساتویں ناکام کوشش ہے۔
ڈیموکریٹ ارکان کا موقف ہے کہ ‘وار پاورز ایکٹ’ کے تحت صدر ٹرمپ پابند تھے کہ وہ مارچ میں ایران پر کیے گئے حملوں کے 60 روز کے اندر (یعنی یکم مئی تک) کانگریس سے منظوری لیتے۔
ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت واضح طور پر قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے مقررہ وقت کے اندر پارلیمان سے رجوع نہیں کیا۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایک ماہ قبل ہونے والے جنگ بندی کے اعلان کے باعث 60 روزہ قانونی مدت کی گھڑی ‘پاز’ہو گئی تھی، اس لیے تاحال کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور نہ ہی نئی اجازت کی فوری ضرورت ہے۔