ملک معاشی بحران کی زد میں ، عوام پر مہنگائی کے بم گر رہے ہیں ، بلاول بھٹو
قومی مفاد اور دفاعی معاملات پر حکومت کے ساتھ ہیں؛ 27 ویں ترمیم پر خود بات کی، 28 ویں پر وقت آنے پر ردعمل دیں گے،میڈیا سے گفتگو
فائل فوٹو
اسلام آباد : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت شدید مالی و معاشی بحران کا سامنا ہے اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے معاشی ریلیف، آئینی ترامیم اور خارجہ پالیسی سمیت اہم علاقائی امور پر پارٹی کا موقف واضح کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ معاشی مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ نظر آ رہا ہے، جس کا اثر براہِ راست غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے صوبوں سے مہنگائی کے خاتمے میں وفاق کی مدد کرنے کی درخواست کی ہے۔ چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبے مل کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں گے، خصوصاً موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول کی قیمتوں میں ریلیف دینے پر کام ہو رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے بجٹ میں مزید مشکلات ہو سکتی ہیں، لہٰذا حکومت کو معاشی حقائق دیکھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔
آئینی ترامیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ 27 ویں ترمیم سے متعلق انہوں نے خود بات کی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے فی الحال کسی نئی ترمیم پر پیپلز پارٹی سے مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب 28 ویں ترمیم سے متعلق کوئی ٹھوس بات سامنے آئے گی تب ہی وہ اپنا ردعمل دیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو درست سمت میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے بہترین مفاد میں بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب اور دبئی کے ساتھ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ ایران کے بعد سب سے زیادہ میزائل یو اے ای پر گرے، ہم جی سی سی ممالک میں حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل خطے میں امن قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور ہم ایران میں مکمل امن کے خواہاں ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے زور دے کر کہا کہ جب بات قومی سلامتی اور بین الاقوامی ایشوز کی ہو تو تمام پاکستانی ایک ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ ہو یا ایران امریکہ کشیدگی، ہم نے ہمیشہ محب وطنی کی بنیاد پر یکجہتی کا پیغام دیا۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران کسی کے کہے بغیر انہوں نے اپنی سطح پر انٹرنیشنل میڈیا کو ملک کے دفاع کے لیے انگیج کیا، کیونکہ نیشنل معاملات پر ہم ہمیشہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔