بھارت میں چار برس بعد پیٹرول مہنگا، قیمت 285 پاکستانی روپے کے برابر ہوگئی
تین روپے کے اضافے پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ، اپوزیشن کا احتجاج
بھارت کے ایک پیٹرول پمپ کی تصویر(فائل)
بھارت میں چار سال بعد پہلی مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تین روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے مودی حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کے خلاف ہنگامہ برپا ہو گیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مقامی مارکیٹ پر دباؤ بڑھ رہا تھا، جس کے بعد قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔ نئے اضافے کے بعد دہلی میں پیٹرول کی قیمت 97.77 بھارتی روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 90.67 بھارتی روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 285 روپے بنتی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں آخری بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ 2022 میں کیا گیا تھا، جبکہ مارچ 2024 میں لوک سبھا انتخابات سے قبل حکومت نے دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر کمی کی تھی۔
ادھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایک موقع پر خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی جبکہ حالیہ دنوں میں یہ 100 سے 105 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی۔
بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے، جن میں سب سے زیادہ تیل روس سے خریدا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق بھی بھارت کو تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔ امریکی پابندیوں میں نرمی کی صورت میں بھارت ایران سے بھی تیل اور گیس درآمد کرتا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ریاستی انتخابات ختم ہوتے ہی مودی حکومت نے عوام سے ریکوری شروع کر دی ہے۔‘‘
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید بحث جاری ہے۔ بعض صارفین نے حکومت پر بحران چھپانے کا الزام عائد کیا جبکہ مودی حکومت کے حامی پاکستان، سری لنکا اور ملائیشیا میں ہونے والے زیادہ اضافے کی مثالیں دیتے رہے۔ ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ کے دوران پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 55 فیصد اضافہ ہوا جبکہ بھارت میں اضافہ صرف تین فیصد رہا۔
دوسری جانب بھارتی حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور سپلائی میں مشکلات کے باوجود ملک میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں۔ بھارتی سیکریٹری پیٹرولیم نیرج متل کے مطابق ملک میں تقریباً 60 دن کے ایندھن اور 45 دن کے ایل پی جی ذخائر موجود ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں 28 فروری 2026 کو پیٹرول کی قیمت 259 روپے 30 پیسے فی لیٹر تھی جو اب بڑھ کر تقریباً 415 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، یعنی ایران جنگ کے آغاز کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں لگ بھگ 162 روپے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔