پاکستان دشمنی کے لیے مشہور آر ایس ایس مذاکرات کی بات کیوں کررہی ہے؟

انتہاپسندتنظیم کے رہنما ہوسابالے اور سابق فوجی سربراہ نے بھی مکالمے کا راستہ کھلا رکھنے کی حمایت کردی

May 15, 2026 · امت خاص

تصویر: کشمیر میڈیاسروس

 

بھارت میں پاکستان سے مذاکرات کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) منوج نروانے نے راشٹریہ سوایم سیووک سنگھ (آر ایس ایس) کے سیکرٹری جنرل کے اُن ریمارکس کی حمایت کی جن میں اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان مکالمے کا راستہ کھلا رکھنے کی بات کی گئی تھی۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے ساتھ انٹرویو میں ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل دتاتریہ ہوسابالے نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مکالمے کا ایک راستہ ہمیشہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے عوام کے درمیان رابطوں کو تعلقات میں تعطل ختم کرنے کی کلید قرار دیا۔

ہوسابالے کے مطابق ،ہمیں ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسی لیے سفارتی تعلقات برقرار رکھے جاتے ہیں، تجارت اور کاروبار جاری رہتا ہے، اور ویزے دیے جا رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں انہیں روکنا نہیں چاہیے، کیونکہ بات چیت کے لیے ایک ونڈو کھلی رکھنی چاہیے۔

آر ایس ایس رہنما نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے مقابلے بھی جاری رہنے چاہییں، کیونکہ اس طرح کے روابط کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔اب سول سوسائٹی کو راستہ دکھانا چاہیے۔

اسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق انڈین آرمی چیف نے کہا کہ دونوں ملکوں میں عوام کے درمیان دوستی بہتر دوطرفہ تعلقات کا باعث بن سکتی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ سرحد کے دونوں جانب عام لوگ رہتے ہیں جنھیں روٹی، کپڑا اور مکان جیسے مشترکہ مسائل کا سامنا ہے۔

جنرل (ریٹائرڈ) منوج نروانے نے کہاکہ عام آدمی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جب عوام کے درمیان دوستی ہو گی تو دونوں ممالک کے درمیان بھی دوستی قائم ہوگی۔

آر ایس ایس ایک طاقتور ہندو تنظیم ہے جو وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی ماں ،اور پاکستان دشمنی کے لیے مشہور ہے۔

بھارتی اخبارٹیلی گراف انڈیا کے مطابق ،ہوسابالے کے ریمارکس امریکی اور برطانوی دورے کے فوراً بعد آئے ہیں،جو ممکنہ بیرونی اثرورسوخ کی نشان دہی کرتے ہیں۔

رکن پارلیمنٹ اور کانگریس کے جنرل سیکرٹری جیرام رمیش نے ایکس پر لکھاہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ امریکہ کے حالیہ دورے کا اثر ہے۔کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ مَنِش تیواری نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ بات چیت کی طرف اس لیے جاناچاہتے ہیں کیوں کہ آپ کو کسی بڑی طاقت کی طرف سے ایساکرنے کو کہا گیاہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ،سابق فوجی سربراہ کی طرف سے حمایت ،بھارت کی عسکری قیادت کی رضامندی ہوسکتی ہے۔کیوں کہ معرکہ حق میں نقصانات بھارتی فوج نے اٹھائے۔

ممکن ہے ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی اور سفارت کاری کے اعتراف میں امریکہ نے نئی دہلی پر دبائو ڈالنے کا راستہ اختیار کیا ہے کہ وہ اسلام آباد سے تعلقات کو معمول پرلانے کی شروعات کرے۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ بھارت نے فیس سیونگ کےلیے اپنی ہی سرپرست جماعت سے مدد مانگی ہو تاکہ اس کی آڑ میں پاکستان سے مزیدفوجی کشیدگی پیداہونے سے روکا جاسکے۔