اسرائیل کا الخلیل (ہبرون) کے مقدس مقام پر فلسطینی کنٹرول ختم کرنے کا دعویٰ
اسرائیل گزشتہ چند دہائیوں سے الخلیل کے قدیم شہر کے وسیع حصوں کو بند کر کے مسجدِ ابراہیمی پر کنٹرول مضبوط کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔
فائل فوٹو
مقبوضہ بیت المقدس/الخلیل: اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مقبوضہ مغربی اردن کے شہر الخلیل (ہبرون) میں واقع تاریخی و مقدس ‘مسجدِ ابراہیمی’ پر سے فلسطینیوں کے انتظامی اختیارات چھین لیے ہیں۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ ماضی میں الخلیل اور وہاں کے مقدس مقامات پر الخلیل بلدیہ (میونسپلٹی) کو حاصل متعدد اختیارات اب ان کے پاس باقی نہیں رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر نے ان خیالات کا اظہار الخلیل کے قریب ایک نئی اسرائیلی بستی (سیٹلمنٹ) کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب کے دوران کیا۔
واضح رہے کہ اسرائیل گزشتہ چند دہائیوں سے الخلیل کے قدیم شہر (اوڈ سٹی) کے وسیع حصوں کو بند کر کے مسجدِ ابراہیمی پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے، اور حالیہ اقدام کو اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ پے در پے کیے جانے والے ان اقدامات کے باعث علاقے میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت اور خود مختاری شدید متاثر ہوئی ہے۔