اسرائیل کا فلوٹیلا پر پھر حملہ: آئرش صدر کی بہن سمیت امدادی قافلے کے متعدد ارکان گرفتار
"گلوبل صمود فلوٹیلا" میں شامل 10 جہازوں کو اسرائیلی فورسز نے زبردستی روک کر اپنے قبضے میں لے لیا۔
فائل فوٹو
تل ابیب / ڈبلن : غزہ کا محاصرہ توڑنے اور محصورین تک امداد پہنچانے کے لیے روانہ ہونے والے عالمی بحری قافلے “گلوبل صمود فلوٹیلا” پر اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دھاوا بول دیا۔
کارروائی کے دوران آئرش صدر کیتھرین کونولی کی ہمشیرہ ڈاکٹر مارگریٹ کونولی سمیت متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کے کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق مجموعی طور پر قافلے میں 15 آئرش شہری شامل تھے، جن میں سے کم از کم 6 افراد کی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کی تصدیق ہو چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے یہ جارحانہ کارروائی بین الاقوامی سمندر میں، جزیرہ قبرص سے تقریباً 70 ناٹیکل میل کے فاصلے پر کی۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر روانہ ہونے والے اس تاریخی اور اب تک کے سب سے بڑے فلوٹیلا میں 60 بحری جہاز شامل تھے، جن میں سے کم از کم 10 جہازوں کو اسرائیلی فورسز نے زبردستی روک کر اپنے قبضے میں لے لیا۔
ڈاکٹر مارگریٹ کونولی اور دیگر پانچ ارکان کی گرفتاری سے قبل ریکارڈ کی گئی ویڈیوز منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔ گلوبل فلوٹیلا کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کی گئی ویڈیو میں آئرش صدر کی بہن نے ہاتھ میں اپنا پاسپورٹ تھامے ہوئے دنیا کو جھنجھوڑنے والا پیغام دیا۔
انہوں نے کہا اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں، تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے مجھے میری کشتی سے اغوا کر لیا ہے اور اب مجھے غیر قانونی طور پر اسرائیلی قید خانے میں رکھا جا رہا ہے۔ مجھے اس امدادی قافلے کا حصہ بننے پر فخر ہے، جو غزہ کے مظلوموں کے لیے اب تک کی سب سے بڑی مہم ہے۔
مہم کے منتظمین نے اسرائیل کی اس کارروائی کو سمندری قزاقی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پُرامن امدادی کارکنوں کو بین الاقوامی سمندر سے اغوا کرنے کا اسرائیل کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔
دوسری جانب روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اس امدادی مہم کو “اشتعال انگیزی” قرار دیا ہے، جسے فلوٹیلا کے ذمہ داران نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قافلے کا مقصد صرف اور صرف انسانی ہمدردی ہے۔
اسرائیل کی اس تازہ ترین کارروائی کے بعد آئرلینڈ سمیت دنیا بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور سفارتی سطح پر تل ابیب پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔