بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
درخواست میں قید تنہائی کو غیر قانونی اور آئین سے متصادم قرار دینے کی استدعا
بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کا معاملہ ہائیکورٹ پہنچ گیا
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کا معاملہ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق مبشرہ خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ بشریٰ بی بی سے فیملی کی ملاقاتیں بند ہیں جبکہ کسی بھی عدالت نے انہیں تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی۔ درخواست کے مطابق تعزیرات پاکستان جیل رولز کے تحت ایسی قید غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ جیل رولز کے مطابق کسی بھی قیدی کو ایک وقت میں 14 دن سے زیادہ تنہائی میں نہیں رکھا جا سکتا۔
درخواست گزار نے استدعا کی کہ بشریٰ بی بی کی تنہائی میں قید کو آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کے تحت بھی غیر معینہ مدت تک تنہائی میں قید رکھنا انسانی وقار کے منافی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کی دائیں آنکھ کی سرجری اپریل میں ہوئی تھی اور آنکھ میں تکلیف کے باعث انہیں دو مرتبہ اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم جیل حکام نے اہلخانہ یا وکلاء کو بیماری اور علاج کی نوعیت سے آگاہ نہیں کیا۔
درخواست کے مطابق بشریٰ بی بی کو مناسب تشخیص کے لیے اسپتال منتقل نہیں کیا گیا جبکہ بانی پی ٹی آئی نے وکیل کو بتایا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ وکلاء کو قانونی مشاورت اور پاور آف اٹارنی پر دستخط کروانے کے لیے ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔
درخواست میں سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔