ایران کے صوبے زنجان میں غداری کے الزام میں 52 افراد کے اثاثے ضبط

ضبط کیے گئے اثاثوں میں نقد رقم، ملکی و غیر ملکی کرنسی، منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور سونا شامل

فائل فوٹو

فائل فوٹو

تہران: ایران کے صوبے زنجان میں غداری کے الزام میں 52 افراد کے اثاثےضبط کر لیے گئے ہیں۔

زنجان کے چیف جسٹس نے کہا کہ ان افراد کے اثاثے مختلف شہروں میں ایک قانون کے تحت ضبط کیے گئے، جس میں اسرائیلی حکومت کے ساتھ جاسوسی اور تعاون کے خلاف سخت سزاؤں کا ذکر ہے۔

یہ کارروائی عدالتی حکم پر کی گئی اور ان افراد کو’وطن سے غداری کرنے والے اور دشمن کے نیٹ ورک سے منسلک بااثر افراد‘ قرار دیا گیا ہے۔

ضبط کیے گئے اثاثوں میں نقد رقم، ملکی و غیر ملکی کرنسی، منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور سونا شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ان افراد میں سے 7 کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کچھ بیرون ملک موجود ہیں۔

حالیہ جنگ کے بعد عدلیہ نے ایسے افراد کے خلاف مقدمات بنائے ہیں جنہیں وہ ’دشمن کا ساتھ دینے والا‘ سمجھتی ہے، اور ان پر اس قانون کے تحت پابندیاں، جیسے سرگرمیوں پر روک اور اثاثوں کی ضبطی، عائد کی جا رہی ہیں۔

عدلیہ نے ایسے افراد کی فہرستیں بھی جاری کی ہیں جن کے اثاثے ’جنگ کی حمایت‘ کرنے کے الزام میں ضبط کیے گئے یا ضبطی کے عمل میں ہیں۔

صحافیوں، اداکاروں، سیاسی کارکنوں، فنکاروں اور کھلاڑیوں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے اثاثوں کی ضبطی میں اضافہ ہوا ہے، اور ساتھ ہی ان اثاثوں کے ملک سے باہر منتقل ہونے کو روکنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔