لائیو امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو سرپرائز ملے گا، ایران

May 20, 2026 · Live

اس اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی اس کارروائی کی مذمت کریں

Wednesday, 20 May 2026 – 09:18 #
ایران سے معاہدہ ممکن ہے، جنگ کیلئے بھی مکمل طور پر تیار ہیں، کے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے سامنے ’ایک سادہ تجویز‘ ہے اور اس معاملے میں ’دو راستے‘ موجود ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ’ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔‘ انہوں نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے کے امریکی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صورت میں دیگر ممالک بھی اپنے ہتھیار بنانے کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گے۔
ان کے مطابق اس سے ’دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی‘ جو ’ہم سب کے لیے حالات کو مزید غیر محفوظ بنا دے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ایران دراصل وہ پہلا ڈومینو ثابت ہوگا جو پوری دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دے گا۔‘
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکہ ’معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ایرانی اس بنیادی نکتے پر ہمارے ساتھ متفق ہوں کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ’نیک نیتی‘ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور ان کے خیال میں معاہدہ ممکن ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ دوسرا راستہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنا ہے تاکہ ’امریکی مقاصد کے حصول کی کوشش جاری رکھی جا سکے۔‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’صدر یہی نہیں چاہتے اور میرا خیال ہے کہ ایرانی بھی ایسا نہیں چاہتے۔‘
جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کا موقع موجود ہے، ’لیکن اس کے لیے دونوں جانب سے آمادگی ضروری ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’ہم ایسا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جس کے تحت ایرانیوں کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت ملے، اس لیے جیسا کہ صدر نے ابھی مجھ سے کہا، ہم مکمل طور پر تیار ہیں۔ ہم اس راستے پر نہیں جانا چاہتے لیکن اگر ضرورت پڑی تو صدر اس کے لیے تیار اور مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

Wednesday, 20 May 2026 – 09:13 #
ہم جنگ ہار رہے ہیں، امریکی رکن کانگریس کا بڑا بیان، جنرل مشتعل

امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایران جنگ سے متعلق سماعت کے دوران اُس وقت سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جب جنگی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے امریکی جنرل کو جنگ میں پیش رفت سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی رکن کانگریس سیتھ مولٹن نے عہدیدار کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ ’اس جنگ کو حقیقت میں جیتنے کا منصوبہ کیا ہے؟‘
عراق جنگ میں امریکی میرین کور کے ساتھ خدمات انجام دینے والے مولٹن نے کہا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم جنگ ہار رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے پاس کوئی جوہری معاہدہ نہیں، نہ ہی آبنائے ہرمز کھلی ہے۔‘
سیتھ مولٹن کا کہنا تھا کہ جنگ ’اچھی نہیں جا رہی‘ اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ’اس غلطی کی قیمت میں ہمیں مزید کتنے امریکیوں کی جان دینی پڑے گی۔‘
اس دوران امریکی جںرل کوپر، جو اپنے پرسکون انداز کے لیے جانے جاتے ہیں، سوالات پر واضح طور پر برہم دکھائی دیے اور جواب میں کہا، ’میرے خیال میں آپ کا یہ بیان مکمل طور پر نامناسب ہے۔‘
اس سے قبل کوپر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امریکہ جنگ میں اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اگرچہ جنگ بندی نافذ ہے، تاہم ’ہم ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔‘
انہوں نے 28 فروری کو ایک اسکول پر امریکی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے بھی گریز کیا، جس میں تقریباً ۱۷۰ ایرانی شہری مارے گئے تھے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔

Wednesday, 20 May 2026 – 09:08 #
ایرانی وزیر خارجہ کی امریکہ کو وارننگ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی کی صورت میں آپ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔‘

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کے پاس کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’محدود وقت‘ باقی ہے کیونکہ امریکہ اسے ’جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتا۔ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔‘

عباس عراقچی نے ٹرمپ کے بیان کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ردعمل میں کہا کہ ’ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد امریکی کانگریس نے اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں طیاروں کی تباہی کا اعتراف کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اب یہ باضابطہ طور پر تصدیق ہو گئی ہے کہ ہماری طاقتور مسلح افواج دنیا کی پہلی طاقت تھی جس نے جدید اور مشہور ایف ۳۵ لڑاکا طیارے کو مار گرایا۔‘

اپنی پوسٹ کے اختتام پر عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے جو سیکھا اور جو علم ہم نے حاصل کیا ہے اس کے ساتھ، یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی اور بھی بہت سی حیرتیں ساتھ لائے گی۔‘

دوسری جانب منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ایران کے پاس دو، تین دن اور ہیں، شاید جمعے، سنیچر اور اتوار یا اگلے ہفتے کی ابتدا تک کا وقت ہے۔‘

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انہوں نے منگل کو ایران پر حملے کا فیصلہ کر لیا تھا، تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی قیادت کی درخواست پر اس فیصلے کو مؤخر کر دیا گیا۔