آرمی چیف کا متوقع دورۂ تہران ، جنگ روکنے کا آخری موقع ، اہم امور پر ڈیڈ لاک برقرار

 ایران اس بات کی ٹھوس ضمانتیں مانگ رہا ہے کہ مستقبل میں دوبارہ جنگ نہیں ہوگی۔

May 21, 2026 · اہم خبریں, قومی
فوٹو آئی ایس پی آر

فوٹو آئی ایس پی آر

اسلام آباد: فیلڈمارشل، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا حالیہ دورۂ تہران خطے میں ممکنہ جنگ کی دوبارہ شروعات کو روکنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کا دورہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان انتہائی حساس اور اہم پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ جہاں بہت سے مبصرین اسے جنگ کی روک تھام کا ‘آخری موقع’ دیکھ رہے ہیں، وہیں ایران اور امریکہ کے درمیان بعض کلیدی معاملات پر تاحال شدید اختلافات برقرار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ معاہدے یا تصفیے کی راہ میں درج ذیل بنیادی رکاوٹیں حائل ہیں۔

 ایران اس بات کی ٹھوس ضمانتیں مانگ رہا ہے کہ مستقبل میں دوبارہ جنگ نہیں ہوگی۔ تاہم امریکہ اس بات کی ضمانت دینے سے قاصر ہے کہ اسرائیل ایران کے اندر اعلیٰ سطح کی ٹارگٹ کلنگ یا مہم جوئی کا سلسلہ بند کر دے گا۔

 ایران آبنائے ہارمز پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے، بیرونِ ملک منجمد اپنے مالیاتی اثاثوں کی واپسی اور افزودہ شدہ یورینیم کی ایک مخصوص مقدار اپنے پاس رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کا اصرار ہے کہ ایران اپنی تمام جوہری تنصیبات کو بند کرے، اور صرف تہران میں واقع سہولت کو کام کرنے کی اجازت دی جائے، مگر وہ بھی کسی قسم کی یورینیم افزودگی کے بغیر۔

دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے نفاذ کے طریقہ کار پر بھی شدید ڈیڈ لاک پایا جاتا ہے:

 واشنگٹن کا اصرار ہے کہ معاہدے کی تمام تر شقوں پر بیک وقت اور یکمشت عملدرآمد ہونا چاہیے۔

تہران کا کہنا ہے کہ نفاذ مراحل میں ہونا چاہیے۔ اگر پہلے 30 دنوں کے اندر جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ہو جاتا ہے، تو اس کے بعد ہی اگلے مراحل پر عمل شروع کیا جائے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجی قیادت کا یہ سفارتی کردار خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کی آخری کوشش ہو سکتا ہے، تاہم کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ دونوں فریقین اپنے سخت موقف میں کس حد تک لچک دکھانے پر آمادہ ہوتے ہیں۔