خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فوسز کی کارروائیاں: 23 دہشت گرد ہلاک

مارے گئے افراد مختلف شدت پسند کارروائیوں میں ملوث تھے، جن میں سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔آئی ایس پی آر

May 21, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

راولپنڈی: تلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا میں انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، جن کا مقصد شدت پسند گروہوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشنز دتہ خیل، سپین وام اور بنوں سمیت مختلف علاقوں تک توسیع دیے گئے ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کے خلاف کئی کارروائیاں کی گئیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، جن میں مزید 23 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک اہم کمانڈر جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل ہے، جو سیکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا اور اس کے سر کی قیمت مقرر تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے افراد مختلف شدت پسند کارروائیوں میں ملوث تھے، جن میں سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جبکہ شدت پسندوں کے زیر استعمال سرنگوں اور بنکرز کے نیٹ ورک کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقوں میں مزید کارروائیاں جاری ہیں تاکہ وہاں موجود شدت پسندوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے، اور ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مہم جاری رکھی جائے گی۔