ایران امریکہ معاہدہ پاکستان اکارڈ کے عنوان سے طے پائے گا۔ مشاہد حسین
ایران میں ریجیم چینج اور مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدلنے کے منصوبے خاک میں مل گئے ۔“امت ڈیجیٹل' کو خصوصی انٹرویو کا پہلا حصہ
اسلام آباد (امت نیوز ویب ڈیسک)
معروف سیاستدان اور عالمی امور کے ماہر مشاہد حسین سیدنے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں امریکہ بری طرح پھنس چکا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران میں ریجیم چینج اور مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدلنے کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے ہیں۔
“امت ڈیجیٹل” کے خصوصی پوڈ کاسٹ میں گروپ ایڈیٹر سجاد عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا کہ 11 فروری کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور موساد چیف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اوول آفس میں بریفنگ دیتے ہوئے یقین دلایا تھا کہ محض دو تین دن میں ایرانی قیادت کا صفایا کر دیا جائے گا، لیکن زمینی حقائق نے ان تمام دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا۔
—
ایران امریکہ کشیدگی اور پاکستان کا کلیدی کردار
مشاہد حسین سید نے بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے پاکستان نے ترکیہ، سعودی عرب اور چین کے ساتھ مل کر انتہائی مثبت کردار ادا کیا ہے۔ تین ہفتے قبل جب آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا، تو پاکستان کے مشورے پر ہی ایرانیوں نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کھولا تھا۔
ایران اب محض عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ پائیدار امن اور ضمانتیں چاہتا ہے، جس کے لیے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا۔مشاہد حسین سید نے ایک سنسنی خیز پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل نواز لابی کی جانب سے بلیک میل کیا گیا۔
ایپسٹین فائلز دراصل بلیک میلنگ کا ایک طریقہ کار تھا۔ جیفری ایپسٹین عام آدمی نہیں بلکہ موساد کا ایجنٹ تھا جس نے وی آئی پی شخصیات کی ویڈیوز بنا رکھی تھیں۔ ٹرمپ جو نئی جنگیں شروع نہ کرنے کا وعدہ کر کے آئے تھے، انہیں اسی لابی اور بلیک میلنگ کے ذریعے اس جنگ میں دھکیلا گیا۔”
—
ابراہم اکارڈز کا خاتمہ اور مشرق وسطیٰ کا مستقبل
مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کے ‘طوفان الاقصیٰ’ نے اسرائیل کے ان تمام منصوبوں کو دفن کر دیا جن کے تحت وہ فلسطین کے مسئلے کو ختم کر کے عرب ممالک سے تعلقات استوار کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے نیتن یاہو کو مشرق وسطیٰ کا گینگسٹراور بڑا جنگیمجرم قرار دیا۔
سابق سینیٹر نے متحدہ عرب امارات کی موجودہ پالیسیوں پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای پہلا مسلمان ملک ہے جس نے اسرائیلی فوج کو اپنی سرزمین پر آنے کی دعوت دی۔
* یو اے ای کا بھارت کے ساتھ ‘اکھنڈ بھارت’ کے نظریے کے قریب ہونا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اکھنڈ بھارت کے نقشے میں خلیجی ممالک کی سرحدیں بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔
—
پاکستان بطور ‘نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر
مشاہد حسین سید نے بتایا کہ اب عرب ممالک دفاع کے لیے امریکہ کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ قطر کے سابق وزیراعظم شیخ جاسم بن حمد نے بھی حال ہی میں ‘گلف نیٹو’ کی تجویز دی ہے جس میں پاکستان، ترکیہ اور مصر کا کلیدی کردار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک “میجر مسلم مڈل پاور”کے طور پر ابھرا ہے، جس کی وجہ سے سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک پاکستان پر بھروسہ کر رہے ہیں۔
نیوکلیئر پروگرام اور مستقبل کی امیدیں
انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے 28 مئی (یوم تکبیر) کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہی ہمارے دفاع کو ناقابل تسخیر بناتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے، جسے **’اسلام آباد ریکارڈ’** کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تو اس سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔