فرانس کا توانائی کمپنیوں پر “ونڈ فال ٹیکس” لگانے پر غور
بڑھتی توانائی قیمتوں نے یورپی معیشت کو دباؤ میں ڈال دیا، فرانس
فرانس کے وزیر خزانہ رولینڈ لیسکیورنے کہا ہے کہ ان کی حکومت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے پر غور کر سکتی ہے۔
رولینڈ لیسکیور نے فرانس کے ریڈیو ادارے “سود ریڈیو” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ کمپنیوں نے غیر معمولی منافع کمایا تو ممکن ہے ان پر اضافی ٹیکس نافذ کیا جائے، تاہم اس حوالے سے باقاعدہ بحث موسم خزاں میں ہوگی۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد فرانس میں حزب اختلاف کے متعدد سیاست دان تیل کمپنیوں، خصوصاً ٹوٹل انجیرنگ پر ونڈ فال ٹیکس لگانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد یورپ بھر میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ امن کے زمانے میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔
ایندھن اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں نے فرانس سمیت یورپی ممالک کی اقتصادی ترقی کو سست کر دیا ہے، جس کے باعث فرانسیسی حکومت کو عوام اور کاروباری شعبے کو ریلیف دینے کیلئے بڑے مالیاتی پیکجز متعارف کرانا پڑے۔