مظفر آباد میں حمزہ برہان کی ٹارگٹ کلنگ کس نے کی،بھارتی میڈیانے رازفاش کردیا

انھوں نے پروپیگنڈا کیا کہ وہ پلوامہ کا ماسٹر مائنڈ ہے،ڈی سی

May 22, 2026 · امت خاص

حمزہ برہان

 

آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآبادمیں نجی کالج کے پرنسپل حمزہ برہان کے قتل کو بھارتی میڈیانے کشمیری مجاہدین کوراستے سے ہٹانے کا تسلسل قراردیاہے۔حسب معمول، بھارتی ذرائع ابلاغ نے واقعہ پیش آنے کے فوری بعد اس کی کوریج شروع کردی تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارےکے مطابق ڈپٹی کمشنرمظفرآباد منیر قریشی نے بتایاکہ یہ معاملہ سب سے زیادہ انڈین میڈیا نے ہائی لائٹ کیا ہے۔ انھوں نے، میرے خیال میں، یہ واقعہ پیش آنے کے پانچ، دس منٹ بعد ہی بریکنگ چلانا شروع کر دی تھیں۔ انھوں نے پروپیگنڈا کیا کہ وہ پلوامہ کا ماسٹر مائنڈ ہے۔

بھارتی میڈیاکا کہناہے کہ حمزہ انڈرکور تھے اور ٹیچرکے طورپر آزادکشمیر میں مقیم تھے۔ان کے پاس میڈیکل کی ڈگری تھی۔اصل نام ارجمند گلزار ڈار بتایاگیا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کا کہناہے کہ برہان 2017میں اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستان گئے،وہاں البدر تنظیم کا حصہ بنے اور ترقی کرتے ہوئے کمانڈر کا درجہ حاصل کر لیا۔اس کے بعد وہ مقبوضہ کشمیر واپس آئےجہاں انہوں نے نوجوانوں کو ریڈیکلائز کرنے اور انہیں عسکریت پسندی میں شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی۔

انڈیا ڈاٹ کام ویب سائٹ کے مطابق، یہ پاکستان میں اس نوعیت کا تیسرا متواتر قتل ہے۔اس سے قبل جیش محمد کے سینئر کمانڈر مولانا سلمان اظہر کو بہاولپور میں،اورحافظ سعید کے قریبی ساتھی شیخ یوسف آفریدی کو ۲۶ اپریل نشانہ بنایاگیا تھا۔بھارتی خبررساں ادارے کا یہ بھی کہناہے کہ حمزہ برہان آن لائن چینلزکے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوششیں کررہے تھے ،جسے روک دیاگیا ہے۔

بھارتی میڈیا نے کہا ہے کہ ارجمند گلزار کو ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن ماڈل کا اہم حصہ سمجھا جاتا تھا، جو برہان وانی نے رائج کیا تھا۔