فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے ،امریکا ایران معاہدے کا مسودہ تیار؛ چند گھنٹوں میں اعلان متوقع

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دورہ ایران کے دوران ایران امریکہ بات چیت ،خطے میں قیام امن اور دیگر اہم امور پر بات چیت کرینگے،سیکیورٹی ذرائع

May 22, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد / تہران : چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے،امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں تیار کیا گیا ایک ممکنہ معاہدے کا حتمی مسودہ مکمل ہوگیا جس کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

ذرائع نے آج جمعہ کے روز بتایا ہے کہ اس مسودے میں 9 نکات شامل کیے گئے ہیں جن میں تمام محاذوں پر فوری، جامع اور غیر مشروط جنگ بندی شامل ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس باخبر ذرائع نے العربیہ نیوز کو مزید بتایا کہ یہ مسودہ ابھی دونوں ممالک کی باضابطہ منظوری کا منتظر ہے۔

ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حتمی مسودے کی منظوری بھی بہت جلد متوقع ہے اور اب چند گھنٹوں کے بعد اس کا اعلان کردیا جائے گا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ معاہدے کے نافذ ہوتے ہی فوری اور غیر مشروط جنگ بندی عمل میں آ جائے گی جس کا اطلاق زمینی، فضائی اور بحری تمام محاذوں پر ہوگا۔

مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا اور ایران ایک دوسرے کی فوجی، شہری اور معاشی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے جبکہ میڈیا پر جاری سخت بیانات اور پراکسی محاذ آرائی کو بھی روکنے پر اتفاق کیا گیا۔

مجوزہ نو نکاتی معاہدے میں آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور خلیج عرب میں جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت بھی شامل ہے جبکہ عمل درآمد کی نگرانی اور تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ میکنزم قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مسودے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کی فوجی، سویلین یا اقتصادی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے۔ اس کے علاوہ مسودے میں فوجی کارروائیاں روکنے اور میڈیا وار یعنی تشہیری جنگ کو بھی بند کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

اس مجوزہ معاہدے کے مطابق اعلان کے 7 روز بعد باقی متنازع امور پر باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے جبکہ ایران کی شرائط پر عمل درآمد کے بدلے امریکا بتدریج اقتصادی پابندیاں نرم کرے گا۔

تاہم رپورٹ میں یہ بات نمایاں ہے کہ مجوزہ مسودے میں امریکا کے اہم مطالبات واضح طور پر شامل نہیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر بیرون ملک منتقل کرنا، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنا اور خطے میں مسلح اتحادی گروپوں کی حمایت روکنا شامل ہیں۔

چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کے سرکاری دورے پر ایران روانہ ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دورہ خطے کی موجودہ صورتحال اور سفارتی کوششوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے اس دورہ ایران کے دوران پاک-امریکہ-ایران بیک چینل ڈپلومیسی اور جاری ثالثی کی کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔

دورے کا بنیادی مرکز ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ بات چیت کو حتمی شکل دینا، خطے میں مستقل امن کا قیام، جنگی خطرات کا خاتمہ اور دیگر اہم علاقائی و عالمی امور ہوں گے۔ پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی رسانی اور جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں بدلنے کے لیے کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

تہران آمد پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ اور مسلح افواج کے اعلیٰ حکام سمیت دیگر اہم ترین ایرانی شخصیات سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں واشنگٹن کی جانب سے موصول ہونے والی تازہ ترین تجاویز، آبنائے ہرمز کو کھولنے، جوہری مذاکرات کی بحالی اور خطے کو پائیدار امن کی طرف لے جانے کے لیے “عارضی یا مستقل معاہدے” کے خدوخال پر فیصلہ کن بات چیت کی جائے گی۔