آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کیلئے ایران اور پاکستان کا مشترکہ مسودہ امریکہ کو ارسال

چین کے کہنے پر پاکستان نے کوششیں تیز کیں، عالمی میڈیا، ٹرمپ کے نئے ٹیلی فون رابطے

فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کر رہے ہیں۔

ایران اور پاکستان نے امریکا کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایک نظرثانی شدہ تجویز پیش کر دی ہے، جبکہ امریکی جواب اتوار تک متوقع ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ واشنگٹن کی جانب سے اس تجویز پر ردعمل جلد سامنے آ سکتا ہے۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور آئندہ چند روز میں امریکا اس معاملے پر “اہم اعلان” کر سکتا ہے۔

دوسری جانب خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق چین نے پاکستان کو ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں بڑھانے کا مشورہ دیا، جس کے بعد پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا ہنگامی دورہ کیا۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اس وقت چین کے دورے پر موجود ہیں جبکہ قطر، سعودی عرب اور ترکیے بھی سفارتی کوششوں میں پاکستان کی حمایت کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکیے اور پاکستان کی قیادت سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مصر، قطر اور عمان کے ہم منصبوں سے گفتگو کی۔

یہ رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے خدوخال واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں اور علاقائی طاقتیں مذاکرات کو زندہ رکھنے اور کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن اور تہران کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے “بہت قریب” پہنچ چکے ہیں۔

پاکستانی فوج کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا مختصر مگر “انتہائی نتیجہ خیز” دورہ مکمل کیا، جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطح ملاقاتوں میں “حوصلہ افزا پیش رفت” ہوئی۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے مذاکرات کا محور جوہری پروگرام کے بجائے “تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، بشمول لبنان” کو بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔