آئی ایم ایف نے پاکستان کی کارکردگی کو”غیر معمولی”قرار دے دیا۔ بھارتی پروپیگنڈا مسترد

ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں پاکستان کی اصلاحات کو سراہا گیا۔ٹیکس نیٹ۔غربت کے مسائل پرتوجہ کی ہدایت

May 24, 2026 · کامرس

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی مجموعی کارکردگی کو پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کے حوالے سے “غیر معمولی” قرار دیا ہے اور بھارت کی جانب سے قرض کے استعمال سے متعلق پراپیگنڈے کو مسترد کر دیا ہے۔ دو ہفتے قبل ہونے والے بورڈ اجلاس سے باخبر حکام کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ بورڈ نے پاکستان کی پروگرام اہداف حاصل کرنے کی کوششوں کو سراہا، تاہم اس نے ٹیکس آمدن میں کمی، محدود ٹیکس نیٹ اور بڑھتی ہوئی غربت جیسے مسائل کی نشاندہی بھی کی۔ پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلق اہداف کے علاوہ زیادہ تر شرائط پوری کیں اور جولائی تا دسمبر 2025 کے جائزہ عرصے میں ساختی اصلاحات پر بھی پیش رفت دکھائی۔

8 مئی کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے لیے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت 22 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کی صدارت آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک نے کی، جنہوں نے پاکستان کی کارکردگی کو “غیر معمولی” قرار دیا۔

حکام کے مطابق اجلاس میں ایک رکن نے اسے پاکستان کے لیے بہترین اجلاسوں میں سے ایک قرار دیا، تاہم بھارت نے ایک بار پھر قرض کی منظوری کی مخالفت کی اور دعویٰ کیا کہ رقوم دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جسے بورڈ نے مسترد کر دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری کے باوجود ٹیکس نیٹ کی کمزوری، محصولات میں مسلسل کمی اور غربت میں اضافہ تشویشناک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو 11 سال کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین شرح 7.1 فیصد پر ہے۔

آئی ایم ایف نے آئندہ اجلاسوں میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور اندرونی آمدن بڑھانے پر زور دیا ہے، جبکہ پاکستان میں مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے دائرہ کار میں توسیع کی بھی سفارش کی گئی ہے۔