تہران میں مبینہ’’شیطانیت‘‘ کے فروغ کے شبہے پر کیفے سیل
کارروائی کے وقت کیفے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جن میں لڑکے اور لڑکیاں شامل تھے
تہران: ایرانی دارالحکومت تہران میں ایک کیفے کو مشکوک سرگرمیوں کے شبہے میں سیل کر دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ کارروائی تہران کی والیاسر اسٹریٹ پر واقع ایک کیفے میں کی گئی، جہاں حکام نے مبینہ طور پر ’’غیر معمولی سرگرمیوں‘‘ اور بعض رپورٹس کے مطابق ’’شیطانیت کے فروغ‘‘ کے شبہے کا ذکر کیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائی کے وقت کیفے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جن میں لڑکے اور لڑکیاں شامل تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوران کچھ افراد موسیقی کی دھن پر موجود تھے جبکہ ایک مختصر ویڈیو میں پرفارمرز کو گٹار بجاتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔
📹 پلمب کافهای مروج #شیطانپرستی در خیابان ولیعصر تهران
بر اساس اطلاعات واصله مشتریان این کافه شامل دختران و پسران جوان، در وضعیتی غیر طبیعی و با حرکاتی عجیب و غریب، که از آن به عنوان شیطانی یاد شده، مشاهده گردیدندhttps://t.co/1TYx58SLCU pic.twitter.com/usmaFkOrig
— خبرگزاری تسنیم (@Tasnimnews_Fa) May 31, 2026
حکام کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق کیفے کو ابتدائی تحقیقات کے لیے بند کیا گیا ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس سے قبل بھی ملک میں اس نوعیت کے الزامات کے تحت کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ رپورٹ میں 17 مئی 2024 کے ایک واقعے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں تہران میں ایک اور کارروائی کے دوران متعدد افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔
سرکاری حکام کی جانب سے اس تازہ واقعے پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔