اسپین میں 24ہزار غیرقانونی پاکستانیوں کی قسمت کھل گئی، پکا ہونے کا طریقہ کیا ہے

غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً 24 ہزار پاکستانیوں کو قانونی رہائش اور ورک پرمٹ حاصل کرنے کا موقع مل گیا ہے۔

June 2, 2026 · بام دنیا

اسلام آباد: اسپین کی 2026 کی خصوصی ریگولرائزیشن اسکیم کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً 24 ہزار پاکستانیوں کو قانونی رہائش اور ورک پرمٹ حاصل کرنے کا موقع مل گیا ہے۔

پاکستانی حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک غیر معمولی موقع ہے جس سے بڑی تعداد میں پاکستانی مستفید ہو رہے ہیں، تاہم مستقبل میں ایسی اسکیم کے دوبارہ متعارف ہونے کے امکانات کم ہیں۔

اسکیم کے تحت وہ افراد جو اسپین میں کم از کم چھ ماہ کام کرنے کا ثبوت فراہم کر سکتے ہیں، ایک سالہ رہائشی اور ورک پرمٹ کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ پرمٹ دو سے تین ہفتوں کے اندر جاری کیا جا رہا ہے اور بعد ازاں مقررہ شرائط پوری کرنے پر اس کی تجدید بھی ممکن ہے۔

اسپین میں پاکستان کے سفیر ظہور احمد نے کمیٹی کو بتایا کہ متعدد پاکستانی پہلے ہی ورک پرمٹ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق ہسپانوی حکومت کا مقصد غیر دستاویزی کارکنوں کو قانونی دائرے میں لا کر ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔

سفیر نے کہا کہ اگر پرمٹ ہولڈر قانون کی پاسداری کریں اور ٹیکس ادا کرتے رہیں تو ان کی حیثیت میں توسیع کی جا سکتی ہے، جبکہ طویل عرصے بعد مستقل رہائش اور شہریت کے حصول کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

حکام نے بتایا کہ درخواست گزاروں کو ضروری دستاویزات کی فراہمی میں سہولت دینے کے لیے لاہور اور گجرات میں خصوصی سہولت مراکز قائم کیے گئے۔ اس دوران ہزاروں پاسپورٹس کی تجدید اور متعدد قانونی دستاویزات پر کارروائی بھی کی گئی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کو درپیش دستاویزی مشکلات کم کرنے کے لیے حکومت نے بروقت اقدامات کیے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

پاکستانی حکام نے اس موقع پر شہریوں کو خبردار بھی کیا کہ وہ مستقبل میں ایسی کسی ممکنہ اسکیم کی امید پر غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کا راستہ اختیار نہ کریں، کیونکہ اس نوعیت کے مواقع بار بار دستیاب نہیں ہوتے۔

ماہرین کے مطابق قانونی حیثیت حاصل کرنے والے پاکستانیوں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے، جس سے نہ صرف ان کی زندگیوں میں استحکام آئے گا بلکہ پاکستان کو ترسیلات زر کی صورت میں بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔