آسٹریلیا میں پناہ لینے والی افغان خواتین کھلاڑیوں کی عالمی فٹبال میں واپسی

طالبان حکومت کے تحت خواتین کی کھیلوں، تعلیم اور دیگر سماجی سرگرمیوں میں شرکت پر عائد پابندیوں کے باعث متعدد کھلاڑیوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا

June 3, 2026 · اسپورٹس

کابل: طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد افغانستان میں خواتین کے کھیلوں پر عائد پابندیوں کے باعث ملک چھوڑنے والی افغان خواتین فٹبالرز نے عالمی سطح پر ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

افغان خواتین فٹبال ٹیم کی کئی کھلاڑیوں کو 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان سے نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔ ان کھلاڑیوں میں گول کیپر فاطمہ یوسفی اور مڈفیلڈر مونا امینی بھی شامل ہیں، جنہوں نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ آسٹریلیا میں پناہ حاصل کی۔

طالبان حکومت کے تحت خواتین کی کھیلوں، تعلیم اور دیگر سماجی سرگرمیوں میں شرکت پر عائد پابندیوں کے باعث متعدد کھلاڑیوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، تاہم انہوں نے بیرون ملک اپنی تربیت اور کھیل کا سفر جاری رکھا۔

طویل جدوجہد اور مسلسل محنت کے بعد افغان خواتین فٹبالرز کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے انہیں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی اجازت دے دی۔

اس وقت 23 افغان خواتین کھلاڑی نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں تربیتی کیمپ میں شریک ہیں، جہاں وہ آئندہ مقابلوں کی تیاری کر رہی ہیں۔ ٹیم کک آئی لینڈز کے خلاف میچز میں بھی حصہ لے گی۔

کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی صرف ایک کھیل کی کامیابی نہیں بلکہ افغانستان کی ان خواتین اور لڑکیوں کے لیے امید کی علامت ہے جو آج بھی اپنے حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

افغان خواتین فٹبالرز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کھیل کے میدان میں اپنی قوم اور افغان خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کی آواز دنیا تک پہنچاتی رہیں گی۔