پنجاب میں غنڈہ گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کا فیصلہ

صوبائی کابینہ نے مجوزہ قانون کی منظوری، جلد اسمبلی میں پیش ہوگا

June 3, 2026 · |

فائل فوٹو

پنجاب حکومت نے غنڈہ گردی، بھتہ خوری اور گینگ سرگرمیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے پرانے غنڈہ ایکٹ 1959 کی جگہ نیا سخت قانون متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت عادی مجرموں کو “اینٹی سوشل پرسن” قرار دیا جائے گا ۔ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹیوں کو مشتبہ افراد کو ڈکلیئر کرنے کے اختیارات بھی دیے جائیں گے۔

نئے قانون میں سزاؤں کو سخت کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ابتدائی جرائم پر 3 سے 5 سال قید دی جا سکے گی، جبکہ بار بار جرم کرنے والوں کے لیے سزا بڑھا کر 7 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کے اختیارات بھی دیے جائیں گے۔

پولیس کو جدید الیکٹرانک نگرانی اور سرویلنس کے اختیارات بھی فراہم کیے جائیں گے۔

مجوزہ قانون میں ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش، قبضہ مافیا کی سرگرمیاں، سائبر کرائم اور ہراسگی کو باقاعدہ طور پر قابلِ سزا جرائم میں شامل کیا گیا ہے۔

صوبائی کابینہ نے اس قانون کی منظوری دے دی ہے اور توقع ہے کہ اسے جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا، جہاں منظوری کے بعد اس کا باقاعدہ نفاذ عمل میں آئے گا۔

حکام کے مطابق اس قانون کا مقصد معاشرے میں امن و امان کو بہتر بنانا اور پیشہ ور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔