بجلی کمپنیوں کی طرف سے 47ارب روپے کی اوور بلنگ کا انکشاف

مقصد بجلی چوری، لائن لاسز اور دیگر خامیوں کو چھپانا تھا

July 24, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 

پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے مبینہ طور پر 47 ارب روپے کی اووربلنگ کا انکشاف ہوا ہے، جس کا مقصد بجلی چوری، لائن لاسز اور دیگر خامیوں کو چھپانا تھا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ غلط میٹر ریڈنگ کے باعث صارفین سے اضافی بل وصول کیے گئے۔ آڈٹ حکام کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کی جانب سے 45 ارب روپے جبکہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کی جانب سے 1.56 ارب روپے کی اووربلنگ کی گئی۔

پاور ڈویژن کے سیکریٹری کے مطابق ایک ہی ماہ میں 278,649 صارفین کو 47 ارب روپے کے اضافی بجلی بل جاری کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسمارٹ میٹرز اور ٹرانسفارمر بیسڈ میٹرنگ سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے متعارف ہونے کے بعد اووربلنگ کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

آڈٹ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اووربلنگ میں میٹر ریڈنگ کرنے والے نچلے درجے کے ملازمین ملوث تھے، کیونکہ انہیں بہت زیادہ اختیارات حاصل تھے۔ حکام کے مطابق بجلی چوری اور لائن لاسز چھپانے کے لیے ادائیگی کرنے والے صارفین کو جان بوجھ کر زیادہ بل بھیجے گئے، جبکہ ریفنڈ صرف ان صارفین کو دیا گیا جنہوں نے باقاعدہ شکایت درج کرائی۔

پی اے سی ارکان نے بھی نشاندہی کی کہ بجلی کمپنیوں نے صرف ایک ماہ میں صارفین کو 904 ملین یونٹس کے اضافی بل جاری کیے۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ یہ صرف وہ کیسز ہیں جو سامنے آئے، معلوم نہیں ہر ماہ کتنے صارفین کو اضافی بل دیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر 20 ہزار روپے ماہانہ کمانے والے شخص کو ایک لاکھ روپے کا بجلی بل موصول ہو تو وہ بجلی چوری کی طرف جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی بیٹیوں کی شادیوں کے لیے محفوظ کیا گیا سونا فروخت کر کے بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں۔

کمیٹی رکن سلیم مانڈوی والا نے پاور ڈویژن کے سیکریٹری کے جواب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا آسان ہے، لیکن یہ بھی سوچنا چاہیے کہ صارفین کو اضافی بل ادا کرنے کے لیے قرض لینا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 سال سے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کی بات سنی جا رہی ہے۔

لیسکو کے چیف ایگزیکٹو افسر نے کہا کہ ان کی کمپنی کے علاقے میں اووربلنگ اب صفر تک کم ہو چکی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ رینجرز کی مدد سے بجلی چوری میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی بار ایک ایکسین (XEN) اور سات سب ڈویژنل افسران (SDOs) کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔

ذیلی کمیٹی نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے علاقے میں 1.06 ارب روپے کی مبینہ خوردبرد کے آڈٹ اعتراض کا بھی جائزہ لیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ رقم فرضی اور ریٹائرڈ ملازمین کو ادائیگیوں کے ذریعے خردبرد کی گئی، جس میں ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسر (DDO)، ایکسین اور چیف فنانشل آفیسر (CFO) کے دفتر کے درمیان مبینہ ملی بھگت شامل تھی۔