برطانیہ: بچوں کیساتھ جرائم میں ملوث 15 افراد کو مجموعی طور پر 188 سال قید

گزشتہ دو برسوں سے 15 افراد کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کے بعد اب جج نے ملزمان کے ناموں اور سزا کی تفصیلات پبلک کرنے کی اجازت دیدی ۔

June 3, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

بریڈفورڈ : شمالی برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں بچی کے ساتھ ریپ اور جنسی جرائم میں ملوث 15 افراد کو مجموعی طور پر 188 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ 

یہ واقعات 2007 سے 2011 کے دوران پیش آئے جب متاثرہ کی عمر 14 سے 18 سال کے درمیان تھی۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کو نومبر 2015 میں چائلڈ سیکسول ایکسپلائٹیشن کے ممکنہ شکار کے طور پر شناخت کیا گیا، کیونکہ وہ متعدد بار لاپتہ ہونے کے کیسز میں رپورٹ ہو چکی تھیں۔

بعدازاں فروری 2016 میں اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ گزشتہ دو برسوں میں متعدد مقدمات چلائے گئے، تاہم عدالتی کارروائی کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے رپورٹنگ پر پابندیاں عائد تھیں۔

گزشتہ دو برسوں سے ان 15 افراد کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کے بعد اب جج نے ملزمان کے ناموں اور سزا کی تفصیلات پبلک کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

ملزمان سے تفتیش کئی سال جاری رہی اور شواہد جمع کرنے، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور مختلف ملزمان کے خلاف مقدمات چلانے کے بعد عدالت نے متعدد سماعتوں اور الگ الگ ٹرائلز کے ذریعے فیصلہ سنایا۔

عدالتی کارروائی کے دوران رپورٹنگ پر پابندیاں عائد تھیں تاکہ مقدمات کی شفافیت متاثر نہ ہو۔ بدھ کے روز جج نے یہ پابندیاں ختم کرتے ہوئے سزاؤں کی تفصیلات جاری کرنے کی اجازت دی۔

عدالت نے تمام ملزمان کو سنگین جنسی جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 8 سے 17 سال تک قید کی مختلف سزائیں سنائیں۔ مجموعی طور پر یہ سزائیں 188 سال بنتی ہیں۔

متاثرہ خاتون نے فیصلے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ اس کے بچپن اور نوجوانی پر ان واقعات کے گہرے اثرات مرتب ہوئے اور یہ زخم زندگی بھر اس کے ساتھ رہیں گے۔

بریڈفورڈ پولیس کی سینئر تفتیشی افسر وکی گرین بینک نے بتایا کہ متاثرہ خاتون نے غیر معمولی جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی ناقابل قبول ہے۔

کیس کی مختصر تاریخ

پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی 2007 سے 2011 کے درمیان بریڈفورڈ میں جنسی استحصال کا شکار رہی۔ اس دوران اس کی عمر 14 سے 18 سال کے درمیان تھی۔ لڑکی متعدد بار گھر سے لاپتا ہوئی تاہم اس وقت ان واقعات کو مکمل طور پر منظم جنسی استحصال سے نہیں جوڑا جا سکا۔

2015 میں ویسٹ یارکشائر پولیس نے پرانے “مسنگ پرسن” ریکارڈز اور بچوں کے استحصال سے متعلق فائلوں کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کیا۔ اسی دوران پتا چلا کہ مذکورہ خاتون 2007 سے 2011 کے درمیان بار بار لاپتا ہوئی تھیں۔

پولیس کو شبہ ہوا کہ یہ بچی ماضی میں کسی گینگ کے ہتھے چڑھ گئی ہو گئی۔ جس کی تصدیق کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا جو اب ادھیڑ عمر خاتون ہیں۔

تفتیش کاروں نے کئی برس پرانے پولیس ریکارڈز، موبائل فون ڈیٹا، گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ متاثرہ لڑکی کو مختلف اوقات میں متعدد افراد نے نشانہ بنایا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ ایک پیچیدہ اور طویل تفتیش تھی کیونکہ واقعات کئی سال پہلے پیش آئے تھے اور ملزمان مختلف مقامات پر رہائش پذیر تھے۔ اس کے باوجود تفتیشی ٹیم نے شواہد کو جوڑ کر ملزمان کے خلاف مضبوط مقدمات تیار کیے۔

تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعدد افراد پر فرد جرم عائد کی گئی۔ چونکہ ملزمان کی تعداد زیادہ تھی اور الزامات بھی مختلف نوعیت کے تھے، اس لیے تمام ملزمان کا ایک ہی وقت میں ٹرائل ممکن نہیں تھا۔

اسی وجہ سے مقدمہ مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا اور گزشتہ دو برس کے دوران متعدد الگ الگ ٹرائلز منعقد ہوئے۔ ہر ٹرائل میں جیوری نے شواہد اور گواہوں کا جائزہ لیا گیا۔

عدالت نے مقدمات کے دوران رپورٹنگ پر پابندی عائد رکھی تاکہ ایک ٹرائل کی میڈیا کوریج دوسرے مقدمات پر اثرانداز نہ ہو اور تمام ملزمان کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل رہے۔

مقدمات کی سماعت برطانیہ کی کراؤن کورٹ میں مختلف مراحل میں ہوئی۔ بعض ملزمان کے خلاف مقدمات الگ الگ سنے گئے جبکہ کچھ کے خلاف مشترکہ سماعتیں بھی ہوئیں۔ حتمی فیصلے اور سزاؤں کا اعلان جون 2026 میں کیا گیا، جس کے بعد جج نے رپورٹنگ پابندیاں ختم کردیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان نے ایک کم عمر لڑکی کا منظم انداز میں استحصال کیا اور اس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔ جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ متاثرہ بچی کو وہ تحفظ نہیں مل سکا جس کی اسے ضرورت تھی، جبکہ ملزمان نے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لیے اسے نقصان پہنچایا۔