لبنان کے لیے جامع جنگ بندی معاہدہ آخری موقع قرار

حزب اللہ نے امریکی تجویز مسترد کردی، مذاکرات پر تنازع برقرار ہے

June 5, 2026 · بام دنیا

لبنان نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والا “جامع جنگ بندی معاہدہ” ملک کے لیے شاید آخری موقع ثابت ہو، تاہم حزب اللہ نے اس مجوزہ فریم ورک کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
پہلی مرتبہ اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد لبنانی فوج کی یونٹس جنوبی لبنان کے گاؤں دبین میں داخل ہوئیں اور وہاں تعینات کی گئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنانی حکومت ایک جامع جنگ بندی معاہدے کے حصول کے لیے کوششیں کر رہی ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی ثالثی میں ہونے والا یہ معاہدہ لبنان کے لیے آخری موقع کی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے مجوزہ معاہدے کے پورے فریم ورک کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے مذاکرات کو “توہین آمیز” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکہ اور اسرائیل وہ سیاسی اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں جو وہ میدان جنگ میں حاصل نہیں کر سکے۔
ادھر لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری لبنان کے لیے سب سے کم نقصان دہ راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔
سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تباہی اور نقل مکانی کا سلسلہ مزید بڑھ گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران 63 افسران اور فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات کا مقصد جاری جنگ کے دوران جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا لبنان میدان جنگ کی نئی حقیقتیں مسلط ہونے سے پہلے کوئی نیا سیاسی اور سکیورٹی فارمولا تشکیل دے پاتا ہے یا نہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں اور یہی طے کریں گے کہ لبنان ایک نازک جنگ بندی کی طرف بڑھتا ہے یا پھر مزید وسیع اور خطرناک تصادم کی جانب۔