اسرائیلی جاسوسی سرگرمیوں پر امریکہ میں تشویش بڑھ گئی

اسرائیلی سفارت خانے نے رپورٹ کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا

June 6, 2026 · بام دنیا

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اسرائیل کی مبینہ جاسوسی سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسدادِ جاسوسی خطرے کی درجہ بندی کو بلند ترین سطح تک بڑھا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے ماتحت ادارے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) نے حالیہ ہفتوں میں ایک داخلی جائزہ تیار کیا ہے جس میں اسرائیل سے متعلق خطرے کی سطح کو “کریٹیکل” یعنی انتہائی سنگین قرار دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جائزہ ایسے خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن کے مطابق اسرائیل امریکی حکام کی سرگرمیوں اور پالیسی سازی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈی آئی اے کی رپورٹ میں انسانی ذرائع اور تکنیکی ذرائع سے معلومات جمع کرنے کی اسرائیلی صلاحیت کو نمایاں کیا گیا ہے جبکہ بعض ایسے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے امریکی حکام کی تشویش میں اضافہ کیا۔

دوسری جانب واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل امریکہ یا اس کے حکومتی اداروں کی جاسوسی نہیں کرتا۔ ترجمان کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس سرگرمیوں کا رخ صرف دشمن عناصر کی جانب ہوتا ہے، اتحادی ممالک کی طرف نہیں۔

ادھر پینٹاگون نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے میڈیا میں سامنے آنے والی معلومات کو غلط قرار دیا ہے۔ نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر کی جانب سے بھی اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔