مہاجرین کی 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس: سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اور رکن اسمبلی عبدالماجد خان سماعت کے دوران عدالت میں موجود رہے۔

June 6, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

مظفر آباد: آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے مہاجرین کی 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس صدارتی ریفرنس کی سماعت کی جسٹس خالد یوسف چوہدری بھی بینچ میں شامل ہیں۔

عدالت نے صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے آئینی سوالات پر عدالتی معاونین اور فریقین کے تفصیلی دلائل سنے۔

سینئر قانون دان راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 33 کے تحت اسمبلی کو مکمل قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ارکانِ اسمبلی مہاجرین نشستوں کے معاملے پر اپنی رائے واضح کر چکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ مہاجرین نشستوں کا معاملہ ہائی پاور کمیٹی میں زیرِ غور لایا جانا چاہیے تھا، سماعت کے دوران وفاقی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا حوالہ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

بیرسٹر ہمایوں نواز، راجہ صداقت حسین اور سردار عبدالرازق نے بھی قانونی نکات پر دلائل دیے۔

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اور رکن اسمبلی عبدالماجد خان سماعت کے دوران عدالت میں موجود رہے۔

عدالت نے اس سوال کا جائزہ لیا کہ آیا 12 مہاجرین نشستیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم یا تبدیل کی جا سکتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ موجودہ قانون ساز اسمبلی کے آئینی ترمیم کے اختیار اور حدود پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔

انتخابات روکنے یا آئینی ترمیم کے لیے دباؤ ڈالنے کی قانونی حیثیت پر عدالت نے رائے طلب کی۔

صدر سپریم کورٹ بار راجہ افتاب، صدر سینٹرل بار راجہ زیغم افتخار اور صدر ہائی کورٹ بار راجہ جہانگیر اسلم بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

سابق ایڈیشنل سیکریٹری فرحت علی میر، خواجہ منظور قادر اور ایم تنویر چوہدری ایڈووکیٹ نے بھی اپنے مؤقف عدالت کے سامنے رکھے۔

سپریم کورٹ کے ڈویژن بینچ نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سپریم کورٹ نے آزاد کشمیر کے صدر کو اپنی آئینی رائے سے آگاہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔